Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Anbiya 21:39

21:39
لو يعلم الذين كفروا حين لا يكفون عن وجوههم النار ولا عن ظهورهم ولا هم ينصرون ٣٩
لَوْ يَعْلَمُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ حِينَ لَا يَكُفُّونَ عَن وُجُوهِهِمُ ٱلنَّارَ وَلَا عَن ظُهُورِهِمْ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ ٣٩
لَوۡ
يَعۡلَمُ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُواْ
حِينَ
لَا
يَكُفُّونَ
عَن
وُجُوهِهِمُ
ٱلنَّارَ
وَلَا
عَن
ظُهُورِهِمۡ
وَلَا
هُمۡ
يُنصَرُونَ
٣٩
もし不信者が(その日)その時,顔からも,また背からも業火を防ぐことが出来ず,また助ける者もない日のことを知っていたならば。

— Ryoichi Mita

Nếu những kẻ vô đức tin biết được thời khắc mà họ không thể đưa mặt và lưng của họ tránh khỏi Hỏa Ngục cũng như không được ai giúp đỡ (thì chắc chắn họ sẽ không giục sự trừng phạt mau đến).

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 21:39 đến 21:41

لویعلم الذین کفروا۔۔۔۔۔۔ ماکانوا بہ یستھزء ون (93 : 14) ”

اگر انکو علم ہوجائے کہ ان کی حالت کیا ہوگی ‘ تو ان کا رویہ یہ نہ ہوتا ‘ جواب ہے۔ یہ عذاب میں نہ جلدی کا مطالبہ کرتے اور نہ یہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مذاق کرتے۔ ان کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اس وقت ہوگا کیا۔ وہاں ان کی حالت یہ وہگی کہ ہر طرف سے آگے کے شعلے انہیں نوچ رہے ہوں گے ‘ جھلسا رہے ہوں گے اور یہ اپنے آپ کو بچانے کی نااکم کوششیں کررہے ہوں گے ‘ قرآن اس کی تصویر اس طرح کھینچتا ہے کہ چہروں پر شعلے حملہ کریں گے ‘ پیٹھوں پر کریں گے اور یہ کسی طرح کا دفاع نہ کرسکیں گے بلک یہ آگ ہمہ جہست ان پر شعلہ بار ہوگی اور یہ کسی شعلے کو رد نہ کرسکیں گے ‘ نہ موخر کرسکیں اور نہ انکو اس عذاب سے ذرا سی مہلت ملے گی۔

یہ آگ اچانک ان پر آئے گی ‘ اس لیے کہ یہ لوگ بہت جلدی کرتے تھے۔ ان لوگوں کا تو تکیہ کلام ہی یہ تھا۔

متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین (12 : 83) ” یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو “۔ اس کا جواب تو یہ ہوا کہ اچانک ان پر ہر طرف سے شعلہ باری ہوگی۔ وہ حیران ہوجائیں گے اور ان کی عقل اب کچھ نہ کرسکے گی۔ نہ سوچ سکیں اور نہ کوئی دفاع کرسکیں گے اور نہ دفاعی منصوبہ بندی کے لیے کوئی مہلت ملے گی۔

یہ تو ہوگا آخرت کا عذاب۔ رہا دنیا کا عذاب تو وہ اس قسم کے مذاق کرنے والوں پر تاریخ میں بار بار آیا ہے۔ مشرکین مکہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر چہ اللہ نے ان کے لیے سرے سے مٹانے کا عذاب مقدر نہیں کیا لیکن قتل ‘ قید اور مغلوبیت کا عذاب تو تم پر آسکتا ہے۔ لہٰذا اس کم درجے کے عذاب سے بھی یہ مذاق کرنے والے محفوظ نہیں ہیں۔ ورنہ رسولوں کے ساتھ مذاق کرنے والوں کا انجام تو تاریخ نے بار ہاریکارڈ کیا ہے۔ جب یہ سنت الہیہ کے مطابق آتا ہے تو پھر ملتا نہیں ہے اور اس کے نظارے ان لوگوں کی تاریخ میں کئی ہیں جو رسولوں کے ساتھ مذاق کرتے رہے ہیں۔

آیا رحمن کے سوا اور کوئی ہے جو رات اور دن انہیں بیشمار مصیبتوں سے بچاتا ہے۔ کیا دنیا کے عذاب یا آخرت کے عذاب سے ‘ اللہ کے سوا انہیں کوئی اور بچانے والا ہے کہ یہ اس قدر شتابی کرتے ہیں ؟