Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Anbiya 21:42

21:42
قل من يكلوكم بالليل والنهار من الرحمان بل هم عن ذكر ربهم معرضون ٤٢
قُلْ مَن يَكْلَؤُكُم بِٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ مِنَ ٱلرَّحْمَـٰنِ ۗ بَلْ هُمْ عَن ذِكْرِ رَبِّهِم مُّعْرِضُونَ ٤٢
قُلۡ
مَن
يَكۡلَؤُكُم
بِٱلَّيۡلِ
وَٱلنَّهَارِ
مِنَ
ٱلرَّحۡمَٰنِۚ
بَلۡ
هُمۡ
عَن
ذِكۡرِ
رَبِّهِم
مُّعۡرِضُونَ
٤٢
言ってやるがいい。「慈悲深き御方(の怒り)から,昼夜誰が,あなたがたを守れようか。」それでもかれらは,主を念じることから背き去る。

— Ryoichi Mita

Ngươi hãy bảo họ (hỡi Thiên Sứ Muhammad!): “Ai sẽ canh giữ an toàn cho các người cả đêm lẫn ngày khỏi Đấng Độ Lượng (khi Ngài giáng xuống sự trừng phạt)?” Không, trước Lời Nhắc Nhở của Thượng Đế của họ, họ luôn ngoảnh mặt quay đi.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 21:42 đến 21:43

قل من یکلئو کم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولاھم منا یصحبون (24 : 34) ’

اللہ رات دن ہر ذی روح کو مختلف مضرتوں سے بچانے والا ہے۔ یہ صفت رحمن ہے یعنی بہت زیادہ مہربان۔ اللہ کے سوا اور کوئی ذات بچانے والی یا مدد گار نہیں ہے۔ اے پیغمبر ‘ ان سے پوچھو کہ اللہ کے سوا ہے کوئی اور تمہارا حامی اور محافظ ؟ یہ سوال دراصل سرزنش اور توبیخ کے لیے کیا گیا ہے اور استفہام انکاری ہے یعنی کوئی نہیں ہے۔ تم بہت بڑی غفلت میں پڑے ہوئے ہو یہ تو اللہ ہی ہے جو رات اور دن تمہیں بچاتا ہے اور اس کے سوا کوئی بھی بچانے والا یا حفاظت کرنے والا نہیں ہے۔

بل ھم۔۔۔۔ معرضون (12 : 24) ” مگر یہ اپنے رب کی نصیحت سے منہ موڑتے ہیں “۔ اسی سوال کو ایک دوسری صورت میں ان سے پوچھا جاتا ہے۔

ام لھم۔۔۔۔۔۔ من دو ننا (12 : 24) ” کیا یہ کوئی ایسے خدا رکھتے ہیں جو ہمارے مقابلے میں ان کی حمایت کریں “۔ تاکہ یہی الہٰ دوسرے معاملات میں ان کی حمایت و حفاظت کریں ‘ ہر گز نہیں۔ ان کے جو الہٰ ہیں ان کی حالت یہ ہے۔

لایستطیعون نصر انفسھم (12 : 34) ” وہ تو خود اپنی مدد نہیں کرسکتے “۔ جب وہ اپنی مدد بھی نہیں کرسکتے تو دوسروں کی کیا مدد کریں گے۔

ولا ھم منا یصحبون (12 : 34) ” اور نہ ہماری تائید ان کو حاصل ہے اور نہ دوستی کہ ایک صاحب قوت سے کوئی قوت حاصل کرلیں۔ جیسا کہ ہارون اور موسیٰ علیہم اسلام نے اللہ سے تائید حاصل کی جب اللہ نے کہا جائو فرعون کی طرف۔

اننی معکما اسمع واری ” میں تمہارے ساتھ ہوں ‘ سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں “۔ یہ الہٰ تو بذات خود کسی قسم کی قوت نہیں رکھتے۔ نہ ان کو اللہ کی تائید حاصل ہے لہٰذا وہ کسی کی مدد نہیں کرسکتے۔

مشرکین کے اعتقادات کی اس کمزوری کی نشاندہی کے بعد اور ان کے ساتھ یہ مذاق کرنے کے بعد اور یہ دیکھنے کے بعد کہ ان کا استدلال دلیل سے خالی ہے سیاق کلام ان کے ساتھ بحث ختم کرکے اس موضوع پر بحث کرتا ہے کہ وہ اس انداز سے کیوں الجھتے ہیں۔ اس کے بعد ان کو احساس دلایا جاتا ہے کہ کچھ تو غور کرو ‘ وست قدرت کو دیکھو کہ وہ کس طرح ان کبراء کے اثرو رسوخ کو کم کرکے ان کے پیروں تلے سے زمین نکال رہا ہے۔ انکے اثرو رسوخ اک دائرہ تنگ ہو رہا ہے ‘ حالانکہ وہ وسیع علاقے میں بااثر تھے۔ انکو قوت حاصل تھی اور بڑا اقتدار تھا انکا۔