Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Anbiya 21:46

21:46
ولين مستهم نفحة من عذاب ربك ليقولن يا ويلنا انا كنا ظالمين ٤٦
وَلَئِن مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌۭ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَيَقُولُنَّ يَـٰوَيْلَنَآ إِنَّا كُنَّا ظَـٰلِمِينَ ٤٦
وَلَئِن
مَّسَّتۡهُمۡ
نَفۡحَةٞ
مِّنۡ
عَذَابِ
رَبِّكَ
لَيَقُولُنَّ
يَٰوَيۡلَنَآ
إِنَّا
كُنَّا
ظَٰلِمِينَ
٤٦
そしてあなたの主の懲罰の息吹が,もしかれらに(少しでも)触れれば,「ああ,情けない。わたしたちは本当に不義を行いました。」と言う。

— Ryoichi Mita

Nhưng nếu có một làn hơi trừng phạt của Thượng Đế của Ngươi chạm đến họ thì chắc chắn họ sẽ kêu than: “Ôi, thật khổ thân chúng tôi! Chúng tôi thực sự đã là những kẻ sai quấy.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

ولئن مستھم۔۔۔۔۔۔۔۔ انا کنا ظلمین ” ۔ لفظ نفحہ کا اطلاق خیر اور رحمت کے مفہوم میں ہوتا ہے یعنی جھونکا۔ یہاں مراد ہے عذاب الہٰی یعنی عذاب الہیٰ کا ایک ہلکا جھونکا بھی انہیں چھو جائے تو یہ اعتراف گناہ کرلیں گے لیکن اس وقت پھر اعتراف کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ اس سے کقبل اس سورة میں بستیوں والوں کی یہ پکار گزر گئی ہے کہ جب ان پر عذاب آیا تو انہوں نے اعتراف کرلیا۔

یویلنآ۔۔۔۔۔۔ خمدین (51) (12 : 41۔ 51) ” ہائے ہماری کم بختی ‘ بیشک ہم خطا وار تھے اور یہی پکار تے رہے یہاں تک کہ ہم نے ان کو کھلیان کردیا ‘ زندگی کا ایک شرارہ تک ان میں نہ رہا “۔ لیکن یہ اعتراف بعد ازوقت تھا۔ لہٰذا ان کے لیے بہتر ہے کہ اس تنبیہ کو قبل ازوقت قبول کرلیں قبل اسکے کہ عذاب الہی کا ایک جھونکا ان پر آجائے۔

یہ سبق قیامت کے حساب و کتاب کے ایک آخری منظر پر ختم ہوتا ہے۔