Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Anbiya 21:56

21:56
قال بل ربكم رب السماوات والارض الذي فطرهن وانا على ذالكم من الشاهدين ٥٦
قَالَ بَل رَّبُّكُمْ رَبُّ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ٱلَّذِى فَطَرَهُنَّ وَأَنَا۠ عَلَىٰ ذَٰلِكُم مِّنَ ٱلشَّـٰهِدِينَ ٥٦
قَالَ
بَل
رَّبُّكُمۡ
رَبُّ
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضِ
ٱلَّذِي
فَطَرَهُنَّ
وَأَنَا۠
عَلَىٰ
ذَٰلِكُم
مِّنَ
ٱلشَّٰهِدِينَ
٥٦
かれは言った。「そうではない。あなたがたの主は,天と地の主。(無から)それら(天地)を創造された方である。そしてわたしはそれに対する証人の一人である。

— Ryoichi Mita

(Ibrahim) nói: “Đúng vậy, Thượng Đế của các người là Thượng Đế của các tầng trời và trái đất, Đấng đã sáng tạo ra chúng (còn những gì các người thờ phượng chẳng có bất cứ quyền năng nào trong sự việc đó cả). Và tôi là một trong những người làm chứng cho điều đó.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

قال بل۔۔۔۔۔۔۔ من الشھدین (65) ‘۔

اللہ تو رب واحد ہے۔ وہی آسمانوں اور زمین کا رب ہے ‘ اور وہ اس لیے رب ہے کہ وہ ان کا پیدا کرنے والا ہے یعنی وہ الہٰ واحد ہے۔ دو صفات کی وجہ سے اور ان میں جدائی ممکن نہیں ہے۔ ایک یہ کہ وہ زمین و آسمان کا رب ہے۔ ان کو چلانے والا ہے اور دوسری صفت یہ ہے کہ ان کو پیدا بھی اس نے کیا۔ یہ تو درست عقیدہ ہے لیکن مشرکین عرب کا عقیدہ نہایت ہی معقول ہے کہ وہ اپنے بتوں کو رب تو مانتے تھے لیکن خالق نہ مانتے تھے۔ خالق وہ بھی صرف اللہ کو مانتے تھے۔ لیکن یہ جانتے ہوئے کہ دوسرے الہوں نے کسی چیز کی تخلیق نہیں کی پھر بھی ان کی پوجا کرتے تھے۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایک ایسے گواہ کی طرح گواہی دیتے ہیں جس کوئی شک نہیں ہوتا۔

وانا علی ذلکم من الشھدین (12 : 65) ” اس پر میں تمہارے سامنے گواہی دیتا ہوں “۔ زمین و آسمان کی تخلیق کے وقت حضرت ابراہیم موجود نہ تھے۔ نہ وہ اپنے نفس اور اپنی قوم کی تخلیق پر چشم دید گواہ تھے۔ لیکن یہ معاملہ اس قدر واضح ‘ ثابت شدہ ہے کہ ایک مومن اس پر چشم دید گواہ کی طرح گواہی دے سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز وحدت خالق پر ناطق ہے۔ انسانی شخصیت کے جو جو کمالات ہیں ‘ جسمانی و ذہنی وہ سب کے سب برہان ناطق ہیں کہ خالق ایک ہے اور وہی مدبر ہے۔ وہ قانون قدرت بھی ایک ہی ہے جو اس پوری کائنات کو مع انسان کے چلا رہا ہے اور اس میں متصرف ہے ‘ جس طرح چاہیے۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم سے جو شخص یہ گفتگو کررہا تھا ‘ اس سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہہ دیا کہ ان کے بتوں کے بارے میں میں نے ایک فیصلہ کرلیا ہے۔ اس پر ضرور عمل ہوگا۔