Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Anfal 8:43

8:43
اذ يريكهم الله في منامك قليلا ولو اراكهم كثيرا لفشلتم ولتنازعتم في الامر ولاكن الله سلم انه عليم بذات الصدور ٤٣
إِذْ يُرِيكَهُمُ ٱللَّهُ فِى مَنَامِكَ قَلِيلًۭا ۖ وَلَوْ أَرَىٰكَهُمْ كَثِيرًۭا لَّفَشِلْتُمْ وَلَتَنَـٰزَعْتُمْ فِى ٱلْأَمْرِ وَلَـٰكِنَّ ٱللَّهَ سَلَّمَ ۗ إِنَّهُۥ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ ٤٣
إِذۡ
يُرِيكَهُمُ
ٱللَّهُ
فِي
مَنَامِكَ
قَلِيلٗاۖ
وَلَوۡ
أَرَىٰكَهُمۡ
كَثِيرٗا
لَّفَشِلۡتُمۡ
وَلَتَنَٰزَعۡتُمۡ
فِي
ٱلۡأَمۡرِ
وَلَٰكِنَّ
ٱللَّهَ
سَلَّمَۚ
إِنَّهُۥ
عَلِيمُۢ
بِذَاتِ
ٱلصُّدُورِ
٤٣
アッラーがあなた(ムハンマド)に,夢でかれら(敵軍)が少数のように見せられた時を思え。もしかれがあなたに対し,かれら(敵軍)を多勢に見せられたならば,あなたがた(信徒) はきっと臆して(あなたの)決定に対し,きっと互いに論争したであろう。だがアッラーは(あなたがたを)救われた。本当にかれは(人びとの)胸の中で考えていることを熟知される。

— Ryoichi Mita

(Hỡi Thiên Sứ Muhammad), Ngươi hãy nhớ lại việc Allah đã cho Ngươi nằm mơ thấy số lượng của quân địch chỉ là số ít. Nếu Ngài cho Ngươi thấy chúng là một lực lượng đông đảo thì chắc chắn các ngươi đã yếu lòng và lo sợ, chắc chắn các ngươi đã tranh cãi nhau về việc (có nên giao chiến với quân địch hay không). Tuy nhiên, Allah đã phù hộ cho các ngươi được bình an. Quả thật, Ngài biết rõ những điều nằm trong lòng (của mọi người).

— Rowwad Translation Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

اللہ کی تدابیر خفیہ میں سے ایک یہ تھی کہ اللہ کے رسول اللہ کو خواب میں کفار کی تعداد کم بتلائی۔ وہ یوں نظر آئے کہ ان کے پاس نہ قوت ہے اور نہ ان کا کوئی وزن ہے۔ حضور نے اپنے ساتھیوں کے سامنے اپنا خواب بیان فرمایا۔ انہوں نے اسے بشارت سمجھا اور ان کے حوصلے بڑھ گئے اور معرکے میں کود پڑے۔ اللہ تعالیٰ یہ بھی بتا دیتے ہیں کہ نبی کو دشمن کی تعداد کم کیوں بتائی گئی ! اس لیے کہ اگر ان کی تعداد زیادہ بتلائی جاتی تو ان کی نظریں اپنی قلت تعداد اور قلت سامان جنگ پر مرکوز ہوجاتیں جبکہ وہ نکلے بھی قافلے کے مقابلے کے لیے تھے اور جنگ کی توقع نہ رکھتے تھے۔ اس طرح وہ ضعف اور کمزوری کا شکار ہوسکتے تھے۔ اور دشمن کے سامنے ٹکرا جانے میں بحث وجدال شروع ہوجاتا۔ بعض لوگ کہتے لڑنا اچھا ہے اور بعض کہتے مڈبھیڑ سے بچنا مفید ہے۔ اور ایسے حالات میں فوج کے درمیان یہ فکری انتشار ایسی فوج کے لیے مہلک ہوتا ہے جو جنگ کے لیے تیار ہو۔ " لیکن اللہ نے اس سے تمہیں بچا لیا۔ یقیناً وہ سینوں کا حال تک جانتا ہے " اللہ تو دلوں کا حال جانتا ہے ، اس نے مسلمانوں کے ساتھ بہت بڑی مہربانی کی کہ ان کو اس انتشار کی کیفیت سے بچایا جو باعث ضعف ہوتی ہے لہذا مشرکین کو خواب میں قلیل دکھایا گیا اور زیادہ نہ دکھایا گیا۔

اور نبی ﷺ کی خواب کا مدلول بھی حقیقی تھا۔ حضور نے دیکھا کہ کفار قلیل ہیں۔ اگرچہ تعداد میں زیادہ تھے ، لیکن وزن کے اعتبار سے وہ ہلکے تھے۔ ان کی حقیقت کچھ نہ تھی ، ان کے دل دماغ ٹھوس نظریات سے خالی تھے۔ ان کے دل ایمان سے خالی تھے اور وہ نفع بخش سازوسامان سے تہی دامن تھے۔ ان کی ظاہری حیثیت اگرچہ آنکھوں کو دھوکہ دے رہی تھی لیکن اندر سے وہ بےحقیقت و بےوزن تھے۔ اللہ کے رسول اللہ ﷺ کو ان کی باطنی حیثیت دکھائی تھی۔ اور اس طرح لوگوں کے دلوں کو اطمینان سے بھر دیا گیا۔ اس لیے کہ اللہ دلوں کے بھیدوں سے واقف تھا۔ اللہ جانتا تھا کہ مسلمانوں کی تعداد اور سازوسامان دشمن کے مقابلے میں کم ہے۔ اگر ان کو صیح علم ہوجائے تو ان کے دلوں میں کیا خیالات ابھریں گے۔ یہ اللہ کی تدابیر میں سے ایک عظیم تدبیر تھی اس لیے کہ اللہ سمعی وعلیم تھا۔