Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Anfal 8:53

8:53
ذالك بان الله لم يك مغيرا نعمة انعمها على قوم حتى يغيروا ما بانفسهم وان الله سميع عليم ٥٣
ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ لَمْ يَكُ مُغَيِّرًۭا نِّعْمَةً أَنْعَمَهَا عَلَىٰ قَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا۟ مَا بِأَنفُسِهِمْ ۙ وَأَنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌۭ ٥٣
ذَٰلِكَ
بِأَنَّ
ٱللَّهَ
لَمۡ
يَكُ
مُغَيِّرٗا
نِّعۡمَةً
أَنۡعَمَهَا
عَلَىٰ
قَوۡمٍ
حَتَّىٰ
يُغَيِّرُواْ
مَا
بِأَنفُسِهِمۡ
وَأَنَّ
ٱللَّهَ
سَمِيعٌ
عَلِيمٞ
٥٣
それは,アッラーがある民に与えられた恩恵は,かれらが自分を(悪く)変えない限り,決してこれを変えないからである。本当にアッラーは全聴にして全知である。

— Ryoichi Mita

Đấy là (hậu quả), bởi Allah không thay đổi hồng ân mà Ngài đã ban cho đám người nào đó cho đến khi họ tự thay đổi bản thân mình (từ tình trạng có đức tin và biết ơn trở thành sự vô đức tin và vong ơn). Thật vậy, Allah hằng nghe, hằng biết.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 8:50 đến 8:54

نعمت کا انحصار حالتِ استحقاق نعمت پر ہے۔ قومی سطح پر کسی کو جو نعمتیں ملتی ہیں وہ ہمیشہ اس استحقاق کے بقدر ہوتی ہیں جو نفسی حالت کے اعتبار سے اس کے یہاں پایا جاتا ہے۔ یہ ’’نفس‘‘ چونکہ فرد کے اندر ہوتاہے اس ليے اس بات کو دوسرے لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ اجتماعی انعامات کا انحصار انفرادی حالات پر ہے۔ افراد کی سطح پر قوم جس درجہ میں ہو اسی کے بقدر اس کو اجتماعی انعامات ديے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی گروہ اگر خدا کے اجتماعی انعامات کو پانا چاہتاہے تو اس کو اپنے افراد کی نفسی اصلاح پر اپنی طاقت صرف کرنا چاہيے۔ اسی طرح کوئی قوم اگراپنے کو اس حال میں دیکھے کہ اس سے اجتماعی نعمتیں چھن گئی ہیں تو اس کو خود نعمتوں کے پیچھے دوڑنے کے بجائے اپنے افراد كي اصلاح کے پیچھے دوڑنا چاہیے۔ کیوں کہ افراد ہی کے بگڑنے سے اس کی نعمتیں چھنی ہیں اور افراد ہی کے بننے سے دوبارہ وہ اسے مل سکتی ہیں۔

جب کوئی قوم عدل کے بجائے ظلم اور تواضع کے بجائے سرکشی کا رويہ اختیار کرتی ہے تو خدا کی طرف سے اس کے سامنے سچائی کا اعلان کرایا جاتاہے تاکہ وہ متنبہ ہوجائے۔ یہ اعلان کمالِ وضاحت کے اعتبار سے خدا کی ایک نشانی ہوتاہے۔ اس کو ماننا خدا کو ماننا ہوتا ہے اور اس کو نہ ماننا خدا کو نہ ماننا۔ خدا کی دعوت جب آیت (نشانی) کی حد تک برہنہ ہو کر لوگوں کے سامنے آجائے پھر بھی وہ اس کا انکار کریں تو اس کے بعد لازماً وہ سزا کے مستحق ہوجاتے ہیں۔ اس سزا کا آغاز اگر چہ دنیا ہی سے ہوجاتاہے۔ تاہم دنیا کی سزا اس سزا کے مقابلہ میں بہت کم ہے جو موت کے بعد آدمی کے سامنے آنے والی ہے۔ فرشتوں کی مار، ساری مخلوق کے سامنے رسوائی اور جہنم کی آگ میں جلنا ۔ یہ سب اتنے ہولناک مراحل ہیں کہ موجودہ حالات میں ان کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

انسان جب ظلم اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتاہے تو اولاً اس کے ليے تنبیہات ظاہر ہوتی ہیں۔ اگر وہ ان سے سبق نہ لے تو بالآخر وہ خدا کے فیصلہ کن عذاب کی زد میں آجاتا ہے۔