Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Anfal 8:57

8:57
فاما تثقفنهم في الحرب فشرد بهم من خلفهم لعلهم يذكرون ٥٧
فَإِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِى ٱلْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِم مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ ٥٧
فَإِمَّا
تَثۡقَفَنَّهُمۡ
فِي
ٱلۡحَرۡبِ
فَشَرِّدۡ
بِهِم
مَّنۡ
خَلۡفَهُمۡ
لَعَلَّهُمۡ
يَذَّكَّرُونَ
٥٧
それでもしあなたがたが,戦いでかれらを打ち破ったならば,かれらとその背後に従う者を追い散らせ。恐らくかれらは反省するであろう。

— Ryoichi Mita

Nếu như Ngươi (hỡi Thiên Sứ Muhammad) gặp chúng trong trận chiến thì các ngươi hãy đánh bại chúng để làm bài học cảnh cáo cho những ai sau chúng, mong là chúng biết ghi nhớ.

— Rowwad Translation Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

یہ ایک عجیب انداز کلام ہے۔ اس میں ایک خوفناک گرفت اور ہولناک رعب و دبدبہ کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ اس کے سنتے ہی انسان بھاگنے اور اپنا مقام چھوڑنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ یہ حال تو ان لوگوں کا ہوجائے گا جو سنیں اور دیکھیں۔ رہے وہ لوگ جن کو یہ سزا دی جائے تو ان کی حالت تو معلوم ہے کہ کیا ہوگی ؟ یہ وہ ضرب ہے جس کا حکم اللہ نے اپنے رسول کو دیا ہے اور خوفناک ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ان لوگوں کے لیے عبرتناک بھی ہے جنہوں نے نقص عہد کی تیاری کر رکھی ہو ، جنہوں نے انسانی قواعد و ضوابط کو چھوڑ دیا ہو۔ یہ ہدایات اس لیے دی گئیں تاکہ اسلامی محاذ امن کا سانس لے اور اس کی ہیبت کی وجہ سے خارجی قوتیں ، جو بھی ہوں ، اس قدر سہم جائیں کہ وہ اسلام کے پھیلاؤ کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں خواہ وہ قریب کی ہوں یا دور کی ہوں۔

اسلامی نظام حیات کا یہ مزاج ہے اور اسلامی تحریک کے ذہن میں اسے اچھی طرح بیٹھ جانا چاہیے کہ اس دین کے لیے ہیبت اور رعب ضروری ہے ، اس کے لیے قوت ضروری ہے۔ اس کے لیے خوفناک شان لازمی ہے اور یہ ضروری ہے کہ ان طاغوتی قوتوں کو مرعوب کردیا جائے تاکہ وہ اسلام کے پھیلاؤ کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں ، اس لیے کہ اسلام پورے کرہ ارض پر انسانوں کی آزادی کا علمبردار ہے اور وہ انسان کو ہر طاغوتی قوت سے نجات دینا چاہتا ہے ، جن لوگوں کا خیال یہ ہے کہ اس دین کا طریق کار یہ ہے کہ محض دعوت و تبلیغ سے کام لیا جائے اور ان مادی رکاوٹوں کو نہ چھیڑا جائے جو طاغوت نے کھڑی کردی ہیں ، وہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اس دین کے مزاج کو بالکل نہیں سمجھا ہے۔

یہ تو تھا پہلا حکم ان لوگوں کے بارے میں جنہوں نے عملاً نقص عہد کا ارتکاب کرلیا تھا۔ ان کے بارے میں یہ کہا گیا کہ ان کی ایسی خبر لی جائے اور ان پر ایسی فیصلہ کن ضرب لگائی جائے کہ ان کے لیے اور کے بعد دوسرے دیکھنے سننے والوں کے لیے عبرت ہو اور ان کے کیمپوں میں خوف طاری کردے۔