Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Anfal 8:58

8:58
واما تخافن من قوم خيانة فانبذ اليهم على سواء ان الله لا يحب الخاينين ٥٨
وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِن قَوْمٍ خِيَانَةًۭ فَٱنۢبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَىٰ سَوَآءٍ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْخَآئِنِينَ ٥٨
وَإِمَّا
تَخَافَنَّ
مِن
قَوۡمٍ
خِيَانَةٗ
فَٱنۢبِذۡ
إِلَيۡهِمۡ
عَلَىٰ
سَوَآءٍۚ
إِنَّ
ٱللَّهَ
لَا
يُحِبُّ
ٱلۡخَآئِنِينَ
٥٨
また人びとの中あなたに対し裏切る恐れがあるならば,対等の条件で(盟約を)かれらに返せ。本当にアッラーは裏切る者を愛されない。

— Ryoichi Mita

Còn nếu như Ngươi lo sợ đám người nào đó bội ước trước thì Ngươi hãy ném (giao ước của chúng) lại cho chúng bởi lẽ Allah thực sự không yêu thương những kẻ bội ước.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 8:55 đến 8:58

مدینہ کے یہود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کاانکار کرکے خدا کی نظر میں مجرم ہوچکے تھے۔ اس جرم پر مزید اضافہ ان کی بد عہدی تھی۔ ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور یہود مدینہ کے درمیان یہ تحریری معاہدہ ہوا کہ دونوں ایک دوسرے کے معاملہ میں غیر جانب دار رہیں گے۔ مگر یہود خفیہ طورپر آپ کے دشمنوں (مشرکین) سے مل کر آپ کے خلاف سازشیں کرنے لگے۔ یہ کفر پر بد عہدی کا اضافہ تھا۔ یہ انکار کے ساتھ کمینگی کو جمع کرنا تھا۔ ایسے لوگوں کے ليے آخرت میں ہولناک عذاب ہے اور دنیا میں یہ حکم ہے کہ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ ان کی شرارتوں کا خاتمہ ہو اور ان کے ارادے پست ہوجائیں۔

اگر کسی قوم سے مسلمانوں کا عہد ہو اور مسلمان ان کی طرف سے بد عہدی کے اندیشہ کی بنا پر اس عہد کو توڑنا چاہیں تو ضروری ہے کہ وہ پہلے انھیں اس کی اطلاع دیں تاکہ دونوں پیشگی طورپر یہ جان لیں کہ اب دونوں کے درمیان عہد کی حالت باقی نہیں رہی۔ امیر معاویہ اور رومی حکمراں میں ایک بار میعادی معاہدہ تھا۔ معاہدہ کی مدت قریب آئی تو امیر معاویہ نے اپنی فوجوں کو خاموشی کے ساتھ روم کی سرحد پر جمع کرنا شروع کیا تاکہ معاہدہ کی تاریخ ختم ہوتے ہی اگلی صبح کو اچانک رومی علاقہ پر حملہ کردیا جائے۔ اس وقت ایک صحابی حضرت عمرو بن عنبسہ گھوڑے پر سوار ہو کر آئے۔ وہ بآواز بلند کہہ رہے تھے اللہ اکبر اللہ اکبر وفاءٌ لا غدرٌ (اللہ اکبر، اللہ اکبر، عہد کو پورا کرو، عہد کو نہ توڑو)، انھوں نے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سنائیمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمٍ عَهْدٌ، فَلَا يَحِلَّنَّ عُقْدَةً وَلَا يَشُدَّهَا حَتَّى يَنْقَضِيَ أَمَدُهَا، أَوْ يَنْبِذَ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ (مسند احمد، حدیث نمبر 17015)۔يعني، جس کا کسی قوم سے معاہدہ ہو تو کوئی گرہ نہ کھولی جائے اور نہ باندھی جائے یہاں تک کہ معاہدہ کی مدت پوری ہوجائے یا برابری کے ساتھ عہد اس کی طرف پھینک دیا جائے۔

دوسری صورت وہ ہے جب کہ صرف اندیشہ کی بات نہ ہو بلکہ فریق ثانی کی طرف سے عملاً معاہدہ کی واضح خلاف ورزی ہو چکی ہو۔ ایسی صورت میں اجازت ہے کہ فریق ثانی کو مطلع كيے بغیر جوابی کارروائی کی جائے۔ غزوۂ مکہ اسی کی مثال ہے۔ قریش نے آپ کے حلیف (بنو خزاعہ) کے خلاف بنو بکر کی جارحانہ کارروائی میں شریک ہو کر معاہدۂ حدیبیہ کی یک طرفہ خلاف ورزی کی تو آپ نے قریش کو پیشگی اطلاع ديے بغیر ان کے خلاف خاموش کارروائی فرمائی۔