Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Anfal 8:65

8:65
يا ايها النبي حرض المومنين على القتال ان يكن منكم عشرون صابرون يغلبوا مايتين وان يكن منكم ماية يغلبوا الفا من الذين كفروا بانهم قوم لا يفقهون ٦٥
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ حَرِّضِ ٱلْمُؤْمِنِينَ عَلَى ٱلْقِتَالِ ۚ إِن يَكُن مِّنكُمْ عِشْرُونَ صَـٰبِرُونَ يَغْلِبُوا۟ مِا۟ئَتَيْنِ ۚ وَإِن يَكُن مِّنكُم مِّا۟ئَةٌۭ يَغْلِبُوٓا۟ أَلْفًۭا مِّنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌۭ لَّا يَفْقَهُونَ ٦٥
يَٰٓأَيُّهَا
ٱلنَّبِيُّ
حَرِّضِ
ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
عَلَى
ٱلۡقِتَالِۚ
إِن
يَكُن
مِّنكُمۡ
عِشۡرُونَ
صَٰبِرُونَ
يَغۡلِبُواْ
مِاْئَتَيۡنِۚ
وَإِن
يَكُن
مِّنكُم
مِّاْئَةٞ
يَغۡلِبُوٓاْ
أَلۡفٗا
مِّنَ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُواْ
بِأَنَّهُمۡ
قَوۡمٞ
لَّا
يَفۡقَهُونَ
٦٥
使徒よ,戦いの時は信者を激励しなさい。あなたがたの中20人の信仰の堅い者がいれば,よく2百人を征服するであろう。あなたがたの中もし百人いるならば,よく千人の不信者を征服するであろう。というのはかれらが,事理を解しない人びとであるため。

— Ryoichi Mita

Hỡi Nabi (Muhammad), Ngươi hãy động viên những người có đức tin đi chinh chiến. Nếu trong các ngươi có hai mươi người kiên định (trong chiến đấu) thì chắc chắn sẽ đánh bại hai trăm người và nếu trong các ngươi có một trăm người (kiên định trong chiến đấu) thì chắc chắn sẽ đánh bại một ngàn người vô đức tin bởi chúng là đám người không hiểu.

— Rowwad Translation Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 8:64 đến 8:65

تفسیر آیات 64 تا 65:۔ اس کے بعد اب حضور ﷺ کو اطمینان دلایا جاتا ہے اور آپ کے واسطہ سے امت مسلمہ کو اطمینان دلایا جاتا ہے کہ اللہ تمہارا دوست اور والی ہے اور تم اس کے دوست ہو۔ تم اس لیے کافی ہو اور وہ تمہارے لیے کافی ہے۔ لہذا تم اللہ کی راہ میں لڑنے کے لیے حریص بن جاؤ اور تمہارے اندر جو قوت ایمانی ہے اس کی وجہ سے تم میں سے ایک آدمی دس کے برابر قوت رکھتا ہے اور اگر اہل ایمان بہت ہی کمزور ہوجائیں تو بھی وہ اپنے سے دگنے دشمنوں کو شکست دیں گے۔

یہاں انسانی سوچ کھڑی کی کھڑی رہ جاتی ہے۔ وہ اس ناقابل شکست قوت پر غور کرتی ہے۔ اور انگشت بدنداں رہ جاتی ہے۔ یہ قوت اللہ کی قوت ہے جو نہایت ہی قوی اور غالب ہے۔ اور اللہ کی قوت کے مقابلے میں وہ حقیر انسانی قوت ہے جو اللہ کی افواج کو چیلنج کر رہی ہے۔ دونوں کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے۔ یہ معرکہ یقینی طور پر محفوظ انجام رکھتا ہے اور اس کا نتیجہ واضح ہے اور الہ کی ضمانت اس کی پشت پر ہے۔ اللہ کی ضمانت یہ ہے :

يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ : اے نبی ! تمہارے لی اور تمہارے پیرو اہل ایمان کے لیے تو بس اللہ ہی کافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد مومنین کو کہا جاتا ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں قتال کے لیے حریص بن جائیں۔ یہ حکم ایسے حالات میں دیا جاتا ہے کہ اس کے لیے ہر شخص تیار ہے ، ہر دل مستعد ہے ، تمام اہل ایمان کے اعصاب اس کے لیے تن گئے ہیں۔ رگ و ریشہ اس کے لیے آمادہ ہے اور کاسہ دل ایمان ، اطمینان اور اللہ پر بھروسے سے بھر گیا ہے۔ يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلَي الْقِتَالِ ۭاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ يَغْلِبُوْا مِائَـتَيْنِ ۚ وَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ يَّغْلِبُوْٓا اَلْفًا مِّنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ ۔ اے نبی مومنوں کو جنگ پر ابھار ، ان کو آمادہ کرو کیونکہ وہ اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کے ہم پلہ ہیں۔ اگرچہ تعداد میں وہ کم ہیں اور دشمن زیادہ ہے اور ارد گرد پھیلا ہوا ہے۔ اِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ يَغْلِبُوْا مِائَـتَيْنِ ۚ وَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ يَّغْلِبُوْٓا اَلْفًا مِّنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۔ اگر تم میں سے بیس آدمی صابر ہوں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر سو آدمی ایسے ہوں تو منکرین حق میں سے ہزار آڈمیون پر بھاری رہیں گے۔ ایسا کیوں ہے ؟ یہ بات نہایت ہی اچانک اور عجیب ہے لیکن اس کے اندر گہرائی اور سچائی ہے۔ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ " کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے " بظاہر فقاہت اور جنگ میں غلبے کے درمیان کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ لیکن ان کے درمیان حقیقی اور نہایت ہی مضبوط تعلق ہے۔ مومن افواج اچھی طرح جانتی ہیں کہ ان کی راہ کیا ہے ؟ ان کا منہاج کیا ہے ؟ اس ذات کی حقیقت کیا ہے اور ان کا مقصد وجود کیا ہے ؟ در اصل اہل ایمان کا دستہ اچھی طرح جانتا ہے کہ الوہیت کا مقام کیا ہے اور بندگی کے آداب کیا ہیں ؟ وہ جانتے ہیں کہ الوہیت منفرد اور بلند ہوتی ہے اور بندگی کے آڈاب یہ ہیں کہ بندگی صرف اللہ کی جائے اور اس کے ساتھ کوئی بھی شریک نہ ہو۔ اہل ایمان کا دستہ یہ بھی جانتا ہے ، وہی امت مسلمہ ہے ، وہی اللہ کی ہدایت کا حامل ہے اور یہ دستہ دنیا میں اس لیے نکالا گیا ہے اور اس لیے قائم کیا گیا ہے کہ انسانوں کو دوسرے انسانوں کی بندگی اور غلامی سے نکال کر اللہ وحدہ کی بندگی میں داخل کردے اور صرف وہی اللہ کا خلیفہ ہے ، اس کرہ ارض پر اسے یہاں اس لیے نہیں بٹھایا گیا کہ وہ خود اپنے آپ کو سربلند کرے اور عیش و عشرت کرے ، بلکہ وہ اللہ کے کلمے کو سربلند کرے اور اس کی راہ میں جہاد کرے اور اس زمین کو سچائی سے بھر دے اور لوگوں کے درمیان انصاف سے فیصلے کرے اور اس زمین رپ ایک ایسی مملکت قائم کرے جس کا مقصد لوگوں کے درمیان عدل قائم کرنا ہو۔ یہ ہے وہ فقہ جو اہل ایمان کے دلوں کو نور ، یقین اور قوت سے بھر دیتا ہے اور ان کو جہاد فی سبیل اللہ کے لیے آمادہ کرتا ہے اور وہ نہایت ہی قوت اور یقین کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ انہیں اپنے انجام کے بارے میں پہلے سے یقین ہوتا ہے جبکہ ان کے دشمن ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ان اہداف و مقاصد کو نہیں سمجھتے۔ ان کے دل و دماغ پر تالے پڑے ہوتے ہیں ، ان کی نظریں کمزور ہوتی ہیں ، ان کی قوتیں شل ہوتی ہیں اگرچہ بظاہر وہ قوی ہیکل و تنومند نظر آئیں۔ ان کی قوت در اصل اپنے اصلی سرچشمے سے منقطع ہوتی ہے۔

یہ نسبت کہ ایک آدمی دس آدمیوں کے برابر ہوگا ، یہ جاننے والے اہل ایمان اور نہ جاننے والے اہل کفر کے درمیان اللہ کے ترازو میں اصلی اور حقیقی نسبت ہے۔ لیکن اگر مسلمان بہت ہی کمزور و ناتواں ہوجائیں تو بھی ان کے اور کفار کے درمیان اور دو کی نسبت قائم رہے گی۔