Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-'Ankabut 29:15

29:15
فانجيناه واصحاب السفينة وجعلناها اية للعالمين ١٥
فَأَنجَيْنَـٰهُ وَأَصْحَـٰبَ ٱلسَّفِينَةِ وَجَعَلْنَـٰهَآ ءَايَةًۭ لِّلْعَـٰلَمِينَ ١٥
فَأَنجَيۡنَٰهُ
وَأَصۡحَٰبَ
ٱلسَّفِينَةِ
وَجَعَلۡنَٰهَآ
ءَايَةٗ
لِّلۡعَٰلَمِينَ
١٥
その時われは,かれと方舟の仲間とを救い,それを万有のための訓戒とした。

— Ryoichi Mita

TA đã giải cứu (Nuh) và những tín đồ theo Y trên một chiếc tàu và lấy đó làm một bài học cho thế gian.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 29:14 đến 29:15

حضرت نوح کی عمر ساڑھے نو سو سال تھی۔ نبوت سے پہلے بھی آپ ایک صالح انسان تھے اور شریعت آدم پر قائم تھے۔ نبوت ملنے کے بعد آپ باقاعدہ خدا کے داعی بن کر اپنی قوم کو ڈراتے رہے۔ مگر سیکڑوں سال کی محنت کے باوجود قوم نہ مانی۔ آخر کار چند اصلاح یافتہ افراد کو چھوڑ کر پوری قوم ایک عظیم طوفان میں غرق کردی گئی۔

ترکی اور روس کی سرحد پر مشرقی اَناطولیہ کے پہاڑی سلسلہ میں ایک اونچی چوٹی ہے جس کو ارارات(Ararat) کہاجاتاہے۔ اس کی بلندی پانچ ہزار میٹر سے زیادہ ہے۔ اس پہاڑ کے اوپر سے اڑنے والے جہازوں کا بیان ہے کہ انھوں نے ارارات کی برف سے ڈھکی ہوئی چوٹی پر ایک کشتی جیسی چیز دیکھی ہے۔ چنانچہ اس کشتی تک پہنچنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اہل علم کا خیال ہے یہ وہی چیزہے جس کو مذہبی روایات میں کشتی نوح کہا جاتاہے۔

اگر یہ اطلاع صحیح ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کی کشتی کو آج بھی باقی رکھا ہے تاکہ وہ لوگوں کےلیے اس بات کی نشانی ہو کہ خدا کے طوفان سے بچنے کےلیے آدمی کو پیغمبر کی کشتی درکار ہے۔ کوئی دوسری چیز آدمی کو خداکے طوفان سے بچانے والی ثابت نہیں ہوسکتی۔