Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-'Ankabut 29:29

29:29
اينكم لتاتون الرجال وتقطعون السبيل وتاتون في ناديكم المنكر فما كان جواب قومه الا ان قالوا ايتنا بعذاب الله ان كنت من الصادقين ٢٩
أَئِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ ٱلرِّجَالَ وَتَقْطَعُونَ ٱلسَّبِيلَ وَتَأْتُونَ فِى نَادِيكُمُ ٱلْمُنكَرَ ۖ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُوا۟ ٱئْتِنَا بِعَذَابِ ٱللَّهِ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ ٢٩
أَئِنَّكُمۡ
لَتَأۡتُونَ
ٱلرِّجَالَ
وَتَقۡطَعُونَ
ٱلسَّبِيلَ
وَتَأۡتُونَ
فِي
نَادِيكُمُ
ٱلۡمُنكَرَۖ
فَمَا
كَانَ
جَوَابَ
قَوۡمِهِۦٓ
إِلَّآ
أَن
قَالُواْ
ٱئۡتِنَا
بِعَذَابِ
ٱللَّهِ
إِن
كُنتَ
مِنَ
ٱلصَّٰدِقِينَ
٢٩
本当にあなたがたは,男性に近付き,また公道で強盗を働く。またあなたがたの集りで,忌まわしい事をしている。」だがかれの民は(答えて),只「あなたが真実を言うのなら,わたしたちにアッラーの懲罰を齎してみなさい。」と言うだけである。

— Ryoichi Mita

“Sao các người lại giao hợp với đàn ông, lại chuyên đánh cướp những người đi đường và làm những điều đáng khinh bỉ trong những cuộc hội họp của các người?” Tuy nhiên, đám dân của (Lut) không trả lời mà lên tiếng thách thức: “Nếu ngươi nói thật thì ngươi hãy mang hình phạt của Allah đến (trừng phạt) bọn ta xem nào.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 29:28 đến 29:30
سب سے خراب عادت ٭٭

لوطیوں کی مشہور بدکرداری سے لوط انہیں روکتے ہیں کہ تم جیسی خباثت تم سے پہلے تو کوئی جانتاہی نہ تھا۔ کفر، تکذیب رسول، اللہ کے حکم کی مخالفت تو خیر اور بھی کرتے رہے مگر مردوں سے حاجت روائی تو کسی نے بھی نہیں کی۔ دوسری بد خصلت ان میں یہ بھی تھی کہ راستے روکتے تھے، ڈاکے ڈالتے تھے، قتل وفساد کرتے تھے مال لوٹ لیتے تھے، مجلسوں میں علی الاعلان بری باتیں اور لغو حرکتیں کرتے تھے۔ کوئی کسی کو نہیں روکتا تھا یہاں تک کہ بعض کا قول ہے کہ وہ لواطت بھی علی الاعلان کرتے تھے۔ گویا سوسائٹی کا ایک مشغلہ یہ بھی تھا ہوائیں نکال کر ہنستے تھے، مینڈھے لڑواتے، مرغ لڑواتے اور بدترین برائیاں کرتے تھے اور علی الاعلان مزے لے لے کر گناہ کرتے تھے۔ حدیث میں ہے کہ راہ چلتوں پر آوازہ کشی کرتے تھے اور کنکر پتھر پھینکتے رہتے تھے۔ [مسند احمد:241/6:ضعیف] ‏

سیٹیاں بجاتے تھے کبوتربازی کرتے تھے، ننگے ہو جاتے تھے، کفر عنادسرکشی ضد اور ہٹ دھرمی یہاں تک بڑھی ہوئی تھی کہ نبی کے سمجھانے پر کہنے لگے جاجا پس نصیحت چھوڑ جن عذابوں سے ڈرارہا ہے انہیں تو لے آ۔ ہم بھی تیری سچائی دیکھیں۔ عاجز آ کر لوط علیہ السلام نے بھی اللہ کے آگے ہاتھ پھیلادئیے کہ اے اللہ! ان مفسدوں پر مجھے غلبہ دے میری مدد کر۔

صفحہ نمبر6689