Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-'Ankabut 29:31

29:31
ولما جاءت رسلنا ابراهيم بالبشرى قالوا انا مهلكو اهل هاذه القرية ان اهلها كانوا ظالمين ٣١
وَلَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَآ إِبْرَٰهِيمَ بِٱلْبُشْرَىٰ قَالُوٓا۟ إِنَّا مُهْلِكُوٓا۟ أَهْلِ هَـٰذِهِ ٱلْقَرْيَةِ ۖ إِنَّ أَهْلَهَا كَانُوا۟ ظَـٰلِمِينَ ٣١
وَلَمَّا
جَآءَتۡ
رُسُلُنَآ
إِبۡرَٰهِيمَ
بِٱلۡبُشۡرَىٰ
قَالُوٓاْ
إِنَّا
مُهۡلِكُوٓاْ
أَهۡلِ
هَٰذِهِ
ٱلۡقَرۡيَةِۖ
إِنَّ
أَهۡلَهَا
كَانُواْ
ظَٰلِمِينَ
٣١
わが使徒(天使)たちが,吉報を持ってイブラーヒームの許に来た時,かれらは言った。「わたしたちは,この町の人びとを滅ぼそうとするところである。本当にここの住民は,悪を行う者たちばかりである。」

— Ryoichi Mita

Khi các Sứ Giả của TA (các Thiên Thần) đến gặp Ibrahim với tin mừng, họ nói với (Ibrahim): “Chúng tôi được lệnh tiêu diệt dân cư của thị trấn này bởi dân cư của nó thực sự là những kẻ làm điều sai quấy bất công.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 29:31 đến 29:32

ولام جآءت رسلنا ابراھیم ۔۔۔۔۔ کانت من الغبرین (31 – 32)

یہ منظر ، ابراہیم (علیہ السلام) اور فرشتوں کا منظر ، یہ منظر یہاں چونک مقصود بالذات نہ تھا ، اس لیے اسے نہایت اختصار کے ساتھ لیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے میں دوسری جگہ یہ بات آگئی ہے کہ انہیں حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کی بشارت دی گئی۔ اور حضرت اسحاق کی ولادت تو خوشخبری کا موضوع تھا۔ اس لیے ان باتوں کو ہاں مفصل نہیں دیا گیا کیونکہ مقصود اتمام قصہ لوط تھا۔ یہاں صرف یہ کہہ دیا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے فرشتے اس لیے ہو کر آئے کہ انہیں خوشخبری دے دیں اور یہ بتا دیں کہ وہ کس مہم پر آئے ہیں۔

انا مھلکوآ اھل ۔۔۔۔۔۔۔ ظلمین (29: 31) ” ہم اس بستی کے لوگوں کو ہلاک کرنے والے ہیں ، اس کے لوگ سخت ظالم ہیں “۔ اب حضرت ابراہیم کا جذبہ رحم اور محبت امنڈ آیا۔ انہوں نے فوراً کہا کہ وہاں تو ان کے بھتیجے حضرت لوط بھی رہتے ہیں اور وہ تو ظالم نہیں ، صالح ہیں۔ اللہ کے فرشتوں اور فرستادوں نے جواب دیا کہ ان کو اس مہم کے بارے میں پوری معلومات دی گئی ہیں اور وہ سب باتوں کو جانتے ہیں۔

قالوا نحن اعلم ۔۔۔۔۔۔ من الغبرین (29: 32) ” انہوں نے کہا ، ہم خوب جانتے ہیں کہ وہاں کون کون ہیں۔ ہم اسے ، اور اس کی بیوی کے سوا ، اس کے باقی سب گھر والوں کو بچالیں گے “۔ اس کی بیوی پیچھے وہ جانے والوں میں سے ہے “۔ یہ بیوی قوم کے ساتھ تھی۔ یہ بھی ان کے جرائم اور بد اعمالیوں کی تصدیق کرتی تھی اور یہ عجیب بات تھی کہ عورت کے حقوق پر ایک عورت ڈاکہ ڈالے۔

اب یہ قصہ ایک تیسرے منظر میں داخل ہوتا ہے۔ یہ منظر بھی عجیب ہے۔ یہ فرشتے نہایت خوبصورت نوجوانوں کی شکل میں حضرت لوط کے پاس آتے ہیں۔ حضرت لوط بھی جانتے ہیں کہ یہ خطرناک مہمان ہیں ، خوبصورت نوجوان اور قوم جس گندی حالت میں۔ لازم ہے کہ یہ لوگ ان مہمانوں کے ساتھ بدسلوکی کریں گے۔ اور وہ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اپنے مہمانوں کا دفاع کرسکیں اس لیے اس پریشانی سے ان کا دل بھر آیا ، اور ان پر پریشانی اور وحشت طاری ہوگئی۔