Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-'Ankabut 29:33

29:33
ولما ان جاءت رسلنا لوطا سيء بهم وضاق بهم ذرعا وقالوا لا تخف ولا تحزن انا منجوك واهلك الا امراتك كانت من الغابرين ٣٣
وَلَمَّآ أَن جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوطًۭا سِىٓءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًۭا وَقَالُوا۟ لَا تَخَفْ وَلَا تَحْزَنْ ۖ إِنَّا مُنَجُّوكَ وَأَهْلَكَ إِلَّا ٱمْرَأَتَكَ كَانَتْ مِنَ ٱلْغَـٰبِرِينَ ٣٣
وَلَمَّآ
أَن
جَآءَتۡ
رُسُلُنَا
لُوطٗا
سِيٓءَ
بِهِمۡ
وَضَاقَ
بِهِمۡ
ذَرۡعٗاۖ
وَقَالُواْ
لَا
تَخَفۡ
وَلَا
تَحۡزَنۡ
إِنَّا
مُنَجُّوكَ
وَأَهۡلَكَ
إِلَّا
ٱمۡرَأَتَكَ
كَانَتۡ
مِنَ
ٱلۡغَٰبِرِينَ
٣٣
わが使徒たち(天使)がルートのところに来た時,かれは自分の無力さを感じ,人びとのため悲しんだ。かれら(天使)は言った。「心配してはなりません。悲しんではなりません。本当にわたしたちは,あなたの妻の外は,あなたとあなたの家族をも救います。かの女は落伍者です 。

— Ryoichi Mita

Rồi khi các Thiên Thần Sứ Giả của TA đến gặp Lut khiến Y lo âu cho Họ trước dân làng và Lut cảm thấy bất lực. (Các Thiên Thần Sứ Giả) bảo (Lut): “Ngươi đừng lo sợ và đừng buồn phiền. Bọn ta chắc chắn sẽ giải cứu Ngươi và gia đình của Ngươi ngoại trừ vợ của Ngươi, nữ ta sẽ là một trong số những kẻ bị tiêu diệt.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 29:33 đến 29:35

ولما ان جآءت ۔۔۔۔۔ بھم ذرعا ” پھر جب ہمارے فرستادے لوط کے پاس پہنچے تو ان کی آمد پر وہ سخت پریشان اور تنگ دل ہوا “۔ یہاں ان اوباشوں کی طرف سے مہمانوں پر ہجوم کے واقعہ کو بھی مختصراً بیان کیا گیا ہے۔ اس موقعہ پر حضرت لوط کے ساتھ ان کا جو مکالمہ ہوا ، اسے بھی کاٹ دیا گیا ہے ، جبکہ وہ اس وقت اس بیماری کے جوش میں تھے۔ یہاں بات کو انجام تک پہنچا دیا جاتا ہے اور آخری انجام کو ذکر ہوتا ہے اس لیے کہ یہ خدائی فرستادے خود بات کو کھول دیتے ہیں اور حضرت لوط کو اپنا تعارف کرا دیتے ہیں کیونکہ وہ شدید اعصابی دباؤ میں تھے اور سخت دل تنگ تھے۔

وقالوا لا تخف ۔۔۔۔۔ کانوا یفسقون (33 – 34)

” انہوں نے کہا ، نہ ڈرو اور نہ رنج کرو۔ ہم تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو بچالیں گے ، سوائے تمہاری بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔ ہم اس بستی کے لوگوں پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں اس فسق کی بدولت جو یہ کرتے رہے ہیں “۔ اس گاؤں کے لوگوں پر جو عذاب الٰہی ہو ، اس کی تصویر کشی یوں کی گئی ہے کہ حضرت لوط ، ان کے اہل و عیال اور اہل ایمان کے سوا تمام لوگوں کو ہلاک کردیا گیا۔ ان پر خاک آلود پتھروں کی بارش کردی گئی۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اللہ کے فرشتوں نے آتش فشانی کا عمل برپا کردیا جس کے نتیجے میں خاک آلود پتھروں کی بارش ہوا کرتی ہے۔ اور اس عذاب کے آثار کو باقی رکھا گیا تاکہ آنے والی اقوام کے اہل عقل و دانش اس سے عبرت لیں اور صدیاں گزرنے کے بعد بھی یہ آثار باقی ہیں۔

ولقد ترکنا ۔۔۔۔۔ یعقلون (35) ” اور ہم نے اس بستی کی ایک کھلی نشانی چھوڑ دی ہے ، ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں “۔ اور یہ انجام اس قوم کا طبیعی انجام تھا۔ کیونکہ اس کی مثال ایک خبیث درخت اور پودے کی تھی جسے زمین سے زمیندار ہمیشہ اکھاڑ پھینکتا ہے کیونکہ یہ درخت نہ پیداوار دیتا ہے اور نہ زندگی کے لیے مفید ہوتا ہے اس کے ساتھ یہی سلوک ہوسکتا ہے کہ اسے اکھاڑ کر بھوسہ بنا دیا جائے۔ اب قصہ حضرت شعیب (علیہ السلام) :