Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-'Ankabut 29:34

29:34
انا منزلون على اهل هاذه القرية رجزا من السماء بما كانوا يفسقون ٣٤
إِنَّا مُنزِلُونَ عَلَىٰٓ أَهْلِ هَـٰذِهِ ٱلْقَرْيَةِ رِجْزًۭا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ بِمَا كَانُوا۟ يَفْسُقُونَ ٣٤
إِنَّا
مُنزِلُونَ
عَلَىٰٓ
أَهۡلِ
هَٰذِهِ
ٱلۡقَرۡيَةِ
رِجۡزٗا
مِّنَ
ٱلسَّمَآءِ
بِمَا
كَانُواْ
يَفۡسُقُونَ
٣٤
わたしたちは,この町の人びとが邪悪無法なため,かれらに天から懲罰を下そうとするところです。」

— Ryoichi Mita

“Bọn ta chắc chắn sẽ giáng một hình phạt từ trên trời xuống trừng phạt dân cư của thị trấn này bởi họ là những kẻ dấy loạn hư đốn.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 29:33 đến 29:35

ولما ان جآءت ۔۔۔۔۔ بھم ذرعا ” پھر جب ہمارے فرستادے لوط کے پاس پہنچے تو ان کی آمد پر وہ سخت پریشان اور تنگ دل ہوا “۔ یہاں ان اوباشوں کی طرف سے مہمانوں پر ہجوم کے واقعہ کو بھی مختصراً بیان کیا گیا ہے۔ اس موقعہ پر حضرت لوط کے ساتھ ان کا جو مکالمہ ہوا ، اسے بھی کاٹ دیا گیا ہے ، جبکہ وہ اس وقت اس بیماری کے جوش میں تھے۔ یہاں بات کو انجام تک پہنچا دیا جاتا ہے اور آخری انجام کو ذکر ہوتا ہے اس لیے کہ یہ خدائی فرستادے خود بات کو کھول دیتے ہیں اور حضرت لوط کو اپنا تعارف کرا دیتے ہیں کیونکہ وہ شدید اعصابی دباؤ میں تھے اور سخت دل تنگ تھے۔

وقالوا لا تخف ۔۔۔۔۔ کانوا یفسقون (33 – 34)

” انہوں نے کہا ، نہ ڈرو اور نہ رنج کرو۔ ہم تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو بچالیں گے ، سوائے تمہاری بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔ ہم اس بستی کے لوگوں پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں اس فسق کی بدولت جو یہ کرتے رہے ہیں “۔ اس گاؤں کے لوگوں پر جو عذاب الٰہی ہو ، اس کی تصویر کشی یوں کی گئی ہے کہ حضرت لوط ، ان کے اہل و عیال اور اہل ایمان کے سوا تمام لوگوں کو ہلاک کردیا گیا۔ ان پر خاک آلود پتھروں کی بارش کردی گئی۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اللہ کے فرشتوں نے آتش فشانی کا عمل برپا کردیا جس کے نتیجے میں خاک آلود پتھروں کی بارش ہوا کرتی ہے۔ اور اس عذاب کے آثار کو باقی رکھا گیا تاکہ آنے والی اقوام کے اہل عقل و دانش اس سے عبرت لیں اور صدیاں گزرنے کے بعد بھی یہ آثار باقی ہیں۔

ولقد ترکنا ۔۔۔۔۔ یعقلون (35) ” اور ہم نے اس بستی کی ایک کھلی نشانی چھوڑ دی ہے ، ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں “۔ اور یہ انجام اس قوم کا طبیعی انجام تھا۔ کیونکہ اس کی مثال ایک خبیث درخت اور پودے کی تھی جسے زمین سے زمیندار ہمیشہ اکھاڑ پھینکتا ہے کیونکہ یہ درخت نہ پیداوار دیتا ہے اور نہ زندگی کے لیے مفید ہوتا ہے اس کے ساتھ یہی سلوک ہوسکتا ہے کہ اسے اکھاڑ کر بھوسہ بنا دیا جائے۔ اب قصہ حضرت شعیب (علیہ السلام) :