Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-'Ankabut 29:36

29:36
والى مدين اخاهم شعيبا فقال يا قوم اعبدوا الله وارجوا اليوم الاخر ولا تعثوا في الارض مفسدين ٣٦
وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًۭا فَقَالَ يَـٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَٱرْجُوا۟ ٱلْيَوْمَ ٱلْـَٔاخِرَ وَلَا تَعْثَوْا۟ فِى ٱلْأَرْضِ مُفْسِدِينَ ٣٦
وَإِلَىٰ
مَدۡيَنَ
أَخَاهُمۡ
شُعَيۡبٗا
فَقَالَ
يَٰقَوۡمِ
ٱعۡبُدُواْ
ٱللَّهَ
وَٱرۡجُواْ
ٱلۡيَوۡمَ
ٱلۡأٓخِرَ
وَلَا
تَعۡثَوۡاْ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
مُفۡسِدِينَ
٣٦
またわれは,マドヤン(の民)にその同胞のシュアイブを遺わした。かれは言った。「わたしの人びとよ,アッラーに仕え,最後の日を待ち望みなさい。悪を行って,地上を退廃させてはならない。」

— Ryoichi Mita

Đối với người dân Madyan, TA đã cử người anh em của họ, Shu’aib, đến với họ. Shu’aib bảo: “Hỡi dân ta! Các người hãy thờ phượng Allah và hãy sợ Ngày Cuối Cùng; Các người chớ đừng làm điều thối nát trên trái đất.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 29:36 đến 29:37

والی مدین اخاھم شعیبا ۔۔۔۔۔۔ دارھم جثمین (36 – 37)

” اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ اس نے کہا ” اے میری قوم کے لوگو ، اللہ کی بندگی کرو اور روز آخر کے امیدوار رہو اور زمین میں مفسدبن کر زیادتیاں نہ کرتے پھرو “۔ مگر انہوں نے اسے جھٹلا دیا۔ آخر کار ایک سخت زلزلے نے انہیں آلیا اور وہ اپنے گھروں میں پڑے کے پڑے رہ گئے “۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ دعوت اسلامی تمام ادوار میں ایک رہی ہے اور دعوت اسلامی کا بنیادی عقیدہ بھی ایک رہا ہے۔

اعبدوا اللہ وارجوا الیوم الاخر (29: 36) ” اللہ کی بندگی کرو اور روز آخرت کے امیدوار رہو “۔ اللہ واحد کی بندگی کرنا اسلامی نظریہ حیات کی نبی اد ہے اور آخرت کی امیدواری کے ذریعہ یہ ممکن ہو سکتا تھا کہ وہ اس دنیا میں جو حلال و حرام سمیٹے چلے جا رہے تھے اور ناپ اور تول کے پیمانوں میں خیانت کر رہے تھے ، اس سے باز آجائیں۔ نیز وہ لوگوں کے حقوق مارتے تھے اور راہ زنی کرتے تھے۔ شاید خوف آخرت کی وجہ سے وہ ان جرائم سے باز آجائیں۔ اس کے علاوہ بھی وہ لوگوں پر کئی قسم کی دست درازیاں کرتے تھے اور زمین میں فساد پر با کرتے تھے خوف آخرت سے ان کی اصلاح ہو سکتی تھی۔

غرض آخر کار انہوں نے اپنے رسول کی تکذیب کی اور ان پر خدا کا عذاب ہوا اور اللہ نے مکذبین کے بارے میں اپنی سنت جاریہ کے مطابق ان کو ہلاک کردیا اور صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔

فاخذتھم الرجفۃ فاصبحوا فی دارھم جثمین (29: 37) ” آخر کار ایک سخت زلزلے نے انہیں آلیا اور وہ اپنے گھروں میں پڑے کے پڑے رہ گئے “۔ اس سے قبل اس سخت زلزلے کی تفصیلات دے دی گئی ہیں ، جس نے ان کی زمین کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور یہ زلزلہ ایک سخت چیخ کے بعد آیا تھا۔ جس نے ان کو بےہوش کردیا تھا اور لوگ اسی جگہ پڑے کے پڑے رہ گئے جہاں تھے۔ اور یہ سزا ان کے ان جرائم کی وجہ سے دی گئی جن میں وہ چیخ چلا کر لوگوں پر ڈاکے ڈالتے اور ان کو لوٹتے۔