Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-A'raf 7:111

7:111
قالوا ارجه واخاه وارسل في المداين حاشرين ١١١
قَالُوٓا۟ أَرْجِهْ وَأَخَاهُ وَأَرْسِلْ فِى ٱلْمَدَآئِنِ حَـٰشِرِينَ ١١١
قَالُوٓاْ
أَرۡجِهۡ
وَأَخَاهُ
وَأَرۡسِلۡ
فِي
ٱلۡمَدَآئِنِ
حَٰشِرِينَ
١١١
かれらは(フィルアウン)に言った。「かれとその兄弟をしばらく退かせ,召集者を諸都市に遺わして,

— Ryoichi Mita

(Các quần thần của Pha-ra-ông) thưa: “Hãy tạm tha cho hắn và người anh em của hắn, hãy cho người cáo thị tập hợp các pháp sư trong các thành phố lại.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 7:111 đến 7:112

اب فرعون اور اس کے ٹولے کے درمیان مذاکرات شروع ہوگئے۔ اس وقت مصر میں کاہن اور جادوگر بڑی تعداد میں تھے۔ خود کاہن جادوگری کا کام بھی کرتے تھے۔ تمام بت پرستانہ مذاہب میں جادو دین کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ چناچہ ان ادیان کے کاہن اور مجاور جادوگری کا کام بھی کرتے تھے۔ آج کل ادیان کے جدید ماہرین اس صورت حالات کو دیکھ کر یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ایک دور ایسا بھی رہا ہے کہ جادوگری سے دین کا آغاز ہوا۔ اور زیادہ پکے ملحد یہ یا وہ گوئی کرتے ہیں کہ جس طرح جادو بالکل دین قرار پا گیا ہے اسی طرح ہر ایک دین بھی ختم ہوجائے گا اور جس طرح سائنس نے جادگروی کے دور کو ختم کردیا ہے اسی طرح ایک وقت ایسا آئے گا کہ مذہب بھی ختم ہوجائے گا۔ بہرحال یہ ان کا خطب ہے جس میں وہ سائنس کے عنوان سے مبتلا ہیں۔

فرعون کے مشیروں نے اسے یہ مشورہ دیا کہ وہ حضرت موسیٰ اور آپ کے بھائی کو وقت دے دیں اور اپنی ریاست کے اطراف و اکناف سے بڑے بڑے جادوگروں کو طلب کریں تاکہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جادو گری کا مقابلہ کریں۔ (نعوذ باللہ)

فرعون نے اپنی معروف و مشہور فرعونیت کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معاملے میں سرکشی کا مظاہرہ نہ کیا اور اس کا رویہ بیسویں صدی کے بعد کے فرعونوں سے زیادہ معقول رہا۔ آج کل کے فرعون دعوت اسلامی کا مقابلہ تشدد اور قید و بند اور باطل طریقوں سے کرتے ہیں۔