Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-A'raf 7:136

7:136
فانتقمنا منهم فاغرقناهم في اليم بانهم كذبوا باياتنا وكانوا عنها غافلين ١٣٦
فَٱنتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَـٰهُمْ فِى ٱلْيَمِّ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا وَكَانُوا۟ عَنْهَا غَـٰفِلِينَ ١٣٦
فَٱنتَقَمۡنَا
مِنۡهُمۡ
فَأَغۡرَقۡنَٰهُمۡ
فِي
ٱلۡيَمِّ
بِأَنَّهُمۡ
كَذَّبُواْ
بِـَٔايَٰتِنَا
وَكَانُواْ
عَنۡهَا
غَٰفِلِينَ
١٣٦
それでわれはかれらへの報いとして,かれらを海に溺れさせた。これはかれらがわが啓示を拒否し,それを軽視したためである。

— Ryoichi Mita

Do đó, TA đã trừng phạt một số bọn chúng bằng cách nhấn chìm chúng trong biển (hồng hải) bởi chúng đã phủ nhận các dấu hiệu của TA và chúng là đám người thờ ơ (với chân lý).

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

اب اللہ کی سنت کے مطابق قدرتی انجام سامنے آتا ہے۔ ان لوگوں کو مشکلات میں مبتلا کرکے بھی آزمایا گیا ، انہیں فراوانی دے کر بھی آزمایا گیا لیکن وہ باز نہ آئے۔ اب وہ واقعہ پیش آتا ہے جو یقین بنا۔ فرعون اور اس کے حاشیہ نشین ہلاک ہوتے ہیں۔ اب ان کی مہلت ختم ہے اور جس انجام تک انہوں نے پہنچنا تھا ، وہ قریب آگیا ہے۔ اور ضعفاء اور صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ کا جو عہد ہوتا ہے اس کا وقت بھی آپہنچا ہے لہذا سر کشوں اور جابروں کو ہلاک کردیا جاتا ہے۔

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِي الْيَمِّ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِيْنَ ۔ وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِيْنَ كَانُوْا يُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا ۭ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ڏ بِمَا صَبَرُوْا ۭوَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهٗ وَمَا كَانُوْا يَعْرِشُوْنَ ۔ تب ہم نے ان سے انتقام لیا اور انہیں سمندر میں غرق کردیا کیونکہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے بےپرواہ ہوگئے تھے۔ اور ان کی جگہ ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور بنا کر رکھے گئے تھے ، اس سرزمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا جسے ہم نے برکتوں سے مالا مال کیا تھا۔ اس طرح بنی اسرائیل کے حق میں تیرے رب کا وعدہ خیر پورا ہوا کیونکہ انہوں نے صبر سے کام لیا تھا اور ہم نے فرعون اور اس کی قوم کا وہ سب کچھ برباد کردیا جو وہ بناتے اور چڑھاتے تھے "

یہاں سیاق کلام میں فرعون کی غرق یابی کے واقعہ کو مختصراً بیان کردیا گیا ہے اور اس کی وہ تفصیلات نہیں دی گئیں جو دوسرے مقامات میں دی گئی ہیں۔ اس لیے کہ یہاں مضمون صرف یہ ہے کہ اللہ سرکشوں کو مہلت کے بعد پکڑتا ہے۔ لہذا اس موضوع کو قصوں کی تفصیلات کی ضرورت نہیں تھی اور ایسے موقعے میں محض اشارات زیادہ اثر انگیز ہوتے ہیں اور احساس پر ایسے واقعات کا زیادہ اچھا اثر ہوتا ہے۔

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِي الْيَمِّ ۔ " تب ہم نے ان سے انتقام لیا اور انہیں سمندر میں غرق کردیا " ایک ہی وار میں ان کا کام تمام کردیا۔ وہ سرکش ، دست دراز اور متکبر تھے۔ اللہ نے انہیں سمندر کی تہہ میں ڈال کر یہ دکھایا کہ تم اب پستیوں سے بھی پست ہو۔ اور یہ تمہارے لیے مناسب جزا ہے۔

یہ کیوں ؟ اس لیے بانہم کذبو بایتنا وکانو عنہا غافلین کیونکہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے بےپرواہ ہوگئے تھے "