Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-A'raf 7:137

7:137
واورثنا القوم الذين كانوا يستضعفون مشارق الارض ومغاربها التي باركنا فيها وتمت كلمت ربك الحسنى على بني اسراييل بما صبروا ودمرنا ما كان يصنع فرعون وقومه وما كانوا يعرشون ١٣٧
وَأَوْرَثْنَا ٱلْقَوْمَ ٱلَّذِينَ كَانُوا۟ يُسْتَضْعَفُونَ مَشَـٰرِقَ ٱلْأَرْضِ وَمَغَـٰرِبَهَا ٱلَّتِى بَـٰرَكْنَا فِيهَا ۖ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ ٱلْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ بِمَا صَبَرُوا۟ ۖ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُۥ وَمَا كَانُوا۟ يَعْرِشُونَ ١٣٧
وَأَوۡرَثۡنَا
ٱلۡقَوۡمَ
ٱلَّذِينَ
كَانُواْ
يُسۡتَضۡعَفُونَ
مَشَٰرِقَ
ٱلۡأَرۡضِ
وَمَغَٰرِبَهَا
ٱلَّتِي
بَٰرَكۡنَا
فِيهَاۖ
وَتَمَّتۡ
كَلِمَتُ
رَبِّكَ
ٱلۡحُسۡنَىٰ
عَلَىٰ
بَنِيٓ
إِسۡرَٰٓءِيلَ
بِمَا
صَبَرُواْۖ
وَدَمَّرۡنَا
مَا
كَانَ
يَصۡنَعُ
فِرۡعَوۡنُ
وَقَوۡمُهُۥ
وَمَا
كَانُواْ
يَعۡرِشُونَ
١٣٧
われは無力と思われていた民に,われが祝福した東と西の各地を継がせた。(よく)耐え忍んだために,イスラエルの子孫の上に,あなたの主の善い言葉が全うされた。そしてわれはフィルアウンとその民がうち建てたもの,また築造していたものを破壊した。

— Ryoichi Mita

Rồi TA cho đám người yếu thế thừa kế vùng đất (Sham) nơi mà từ đông sang tây đều được TA ban phúc. Lời tốt đẹp mà Thượng Đế của Ngươi (hỡi Thiên Sứ) đã hứa với dân Israel do bởi họ đã kiên nhẫn chịu đựng đã được hoàn thành. Và TA đã phá tan bao công trình mà Pha-ra-ông và đám thuộc hạ của hắn đã xây cất và gầy dựng.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 7:136 đến 7:137
انجام سرکشی ٭٭

جب یہ لوگ اپنی سرکشی اور خود پسندی میں اتنے بڑھ گئے کہ باری تعالیٰ کی بار بار کی نشانیاں دیکھتے ہوئے بھی ایمان لانے سے برابر انکار کرتے رہے تو قدرت نے اپنے زبردست انتقام میں انہیں پھانس لیا اور سب کو دریا برد کر دیا۔

بنی اسرائیل بحکم الٰہی ہجرت کر کے چلے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے دریا ان کے لیے خشک ہو گیا۔ پھر فرعون اور اس کے ساتھی اس میں اترے تو دریا میں پھر روانی آ گئی اور پانی کا ریلہ آیا اور وہ سب ڈوب گئے۔ یہ تھا انجام اللہ کی باتوں کو جھوٹ سمجھنے اور ان سے غافل رہنے کا۔ پھر پروردگار نے بنو اسرائیل جیسے کمزور، ناتواں لوگوں کو اس زمین کا وارث بنا دیا۔ مشرق و مغرب ان کے قبضے میں آ گیا۔ جیسے فرمان ہے کہ ہم نے ان بے بسوں پر احسان کرنا چاہا اور انہیں امام اور وارث بنانا چاہا۔ انہیں حکومت سونپ دی اور فرعون و ہامان اور ان کے لشکریوں کو وہ نتیجہ دکھایا جس سے وہ بھاگ رہے تھے۔ اور آیتوں میں ہے کہ فرعونیوں سے ہرے بھرے باغات، چشمے، کھیتیاں، عمدہ مقامات، فراواں نعمتیں چھڑوا کر ہم نے دوسری قوم کے سپرد کر دیں۔ سرزمین شام برکت والی ہے۔ یہ ہماری قدرت کی نشانیوں میں سے ہے۔ بنی اسرائیل کا صبر نیک نتیجہ لایا، فرعون اور اس کی قوم کی بنی بنائی چیزیں غارت ہوئیں۔

صفحہ نمبر3052