Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-A'raf 7:147

7:147
والذين كذبوا باياتنا ولقاء الاخرة حبطت اعمالهم هل يجزون الا ما كانوا يعملون ١٤٧
وَٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَا وَلِقَآءِ ٱلْـَٔاخِرَةِ حَبِطَتْ أَعْمَـٰلُهُمْ ۚ هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ١٤٧
وَٱلَّذِينَ
كَذَّبُواْ
بِـَٔايَٰتِنَا
وَلِقَآءِ
ٱلۡأٓخِرَةِ
حَبِطَتۡ
أَعۡمَٰلُهُمۡۚ
هَلۡ
يُجۡزَوۡنَ
إِلَّا
مَا
كَانُواْ
يَعۡمَلُونَ
١٤٧
わが印と,来世における会見を偽りであるとする者の行いは無効である。かれらの行ったこと以外に,何が報いられようか。

— Ryoichi Mita

Những kẻ đã phủ nhận các dấu hiệu của TA cũng như cuộc gặp gỡ (TA) ở Đời Sau thì mọi việc làm (tốt đẹp) của chúng đều không có giá trị. Chắc chắn chúng sẽ được đền đáp đúng với những gì chúng đã làm!

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 7:146 đến 7:147

دنیا میں زندگی گزارنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی نے اپنی آنکھ اور کان کھلے رکھے ہوں۔ وہ چیزوں کو ان کے اصلی رنگ میں دیکھتا اور سنتا ہو۔ ایسے آدمی کے سامنے حق آئے گا تو وہ اس کو پہچان لے گا۔ دنیا میں بکھری ہوئی خدائی نشانیاں اس کو جو سبق دیں گی وہ ان کو پالے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی متکبرانہ نفسیات کے ساتھ جی رہا ہو۔ وہ زمین میں اس طرح رہتا ہو جیسے وہ اس کا مالک ہے، اس کواپنے ذاتی داعیات کے سوا کسی اور چیز کی پروا نہ ہو۔ وہ سمجھتا ہو کہ یہاں جو کچھ اسے مل رہا ہے وہ اپنی لیاقت کی وجہ سے مل رہا ہے۔ اپنی ملی ہوئی چیزوں میں اس کو کسی اور کی مرضی کا لحاظ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس دوسرے آدمی کا استغناء اس کے ليے قبول حق میں رکاوٹ بن جائے گا۔

پہلے آدمی کی نفسیات لینے والی نفسیات ہوتی ہے۔ وہ اپنے کھلے ذہن کی وجہ سے خدا کے ہر اشارہ کو پڑھ لیتاہے۔ اور فوراً اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال لیتاہے۔ اس کے برعکس، دوسرے آدمی کی نفسیات بے نیازی کی نفسیات ہوتی ہے۔ اس کے سامنے حق کے دلائل آتے ہیں مگر وہ ان کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کردیتاہے۔ اس کے سامنے قدرت خاموش زبان میں اپنا نغمہ چھیڑتی ہے مگر وہ اس پر دھیان دینے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ اس کو اپنے سے باہر کسی سچائی کی طرف رغبت نہیںہوتی — موت کے بعد آنے والی دنیا صرف پہلے لوگوں کے لیے ہے۔ دوسرے لوگ خدا کی ابدی دنیا میں اسی طرح نظر انداز کرديے جائیں گے جس طرح موجودہ امتحان کی دنیا میں وہ خدا کی بات کو نظر انداز كيے ہوئے تھے۔

گمراہی کا راستہ نفس کے محرکات کے تحت بنتا ہے اور ہدایت کا راستہ وہ ہے جو نفس اور ماحول کے اثرات سے اوپر اٹھ کر خالص خدا کے ليے وجود میں آتاہے۔ اب جو لوگ اپنی ذات کی سطح پر جی رہے ہوں، جو صرف اپنے نفس کے اندر ابھرنے والے داعیات کو جانتے ہوں وہ گمراہی کے راستے کو عین اپنی چیز سمجھ کر اس کی طرف دوڑ پڑیں گے۔ ہدایت کا راستہ ان کو اپنے مزاج کے اعتبار سے اجنبی دکھائی دے گا اس ليے وہ اس کی طرف بڑھنے میں بھی ناکام ثابت ہوں گے۔

بڑا ئی کی نفسیات اس چیز کو بآسانی قبول کرلیتی ہے جس میں اس کی بڑائی باقی رہے۔ اور جہاں اس کی بڑائی مشتبہ ہوتی ہو اس سے اسے کوئی دل چسپی نہیں ہوتی۔