Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-A'raf 7:168

7:168
وقطعناهم في الارض امما منهم الصالحون ومنهم دون ذالك وبلوناهم بالحسنات والسييات لعلهم يرجعون ١٦٨
وَقَطَّعْنَـٰهُمْ فِى ٱلْأَرْضِ أُمَمًۭا ۖ مِّنْهُمُ ٱلصَّـٰلِحُونَ وَمِنْهُمْ دُونَ ذَٰلِكَ ۖ وَبَلَوْنَـٰهُم بِٱلْحَسَنَـٰتِ وَٱلسَّيِّـَٔاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ١٦٨
وَقَطَّعۡنَٰهُمۡ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
أُمَمٗاۖ
مِّنۡهُمُ
ٱلصَّٰلِحُونَ
وَمِنۡهُمۡ
دُونَ
ذَٰلِكَۖ
وَبَلَوۡنَٰهُم
بِٱلۡحَسَنَٰتِ
وَٱلسَّيِّـَٔاتِ
لَعَلَّهُمۡ
يَرۡجِعُونَ
١٦٨
われはかれらを,地上で多数の集団に分散した。そのある者は正しい人物であるが,ある者はそうではない。われは緊栄と逆境でかれらを試みた。恐らくかれらは,(われに)戻ってくるであろう。

— Ryoichi Mita

TA đã chia cắt họ (Do Thái) thành các cộng đồng sống rải rác trên trái đất. Trong số họ, có những người lương thiện và cũng có những kẻ không như thế. TA đã thử thách họ cả điều tốt lẫn điều xấu hi vọng họ biết quay về (với chân lý).

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

اس کے بعد یہ قصہ تاریخی خطوط پر آگے بڑھتا ہے۔ حضرت موسیٰ آپ کے خلفاء انبیاء اور آپ کے بعد نسلاً بعد نسل آنے والے لوگوں سے آگے بڑھ کر اب اس نسل سے بات ہو رہی ہے جو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں موجود ہے اور جماعت مسلمہ اور اس کے درمیان مقابلہ ہے

یہ آیات بھی مدنی ہے اور ان کو یہاں اس لیے رکھا گیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل کے قصے کو مکمل کردیا جائے۔ یہ اس وقت کے حالات ہیں جب یہودی اس کرۂ ارض پر دور تک پھیل گئے تھے۔ ان کی مختلف جماعتیں بن گئی تھیں اور انہوں نے مختلف مذاہب اور عقائد اپنا لیے تھے۔ ان کے مسلک اور مشرب مختلف ہوگے تھے۔ ان میں سے کچھ لوگ نیک تھے اور کچھ عام لوگ تھے ، کہیں ان کی آزمائشیں ہوتی رہیں ، کبھی خوشحال بن کر انہیں آزمایا جاتا اور کبھی بد حال بنا کر ، تاکہ وہ راہ راست کی طرف لوٹ آئیں اور راہ ہدایت پا لیں اور سیدھے راستے پر چلیں۔

وَقَطَّعْنٰهُمْ فِي الْاَرْضِ اُمَمًا ۚمِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَمِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ ۡ وَبَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ ۔ ہم نے ان کو زمین میں ٹکڑے ٹکڑے کرکے بہت سی قوموں میں تقسیم کردیا۔ کچھ لوگ ان میں نیک تھے اور کچھ اس سے مختلف۔ اور ہم ان کو اچھے اور برے حالات سے آزمائش میں مبتلا کرتے رہے کہ شاید یہ پلٹ آئیں

اللہ کی طرف سے آزمائش بھی ایک قسم کی رحمت ہوتی ہے اور ان آزمائشوں کی وجہ سے انسان مسلسل اللہ کو یاد کرتا رہتا ہے اور انسان غافل نہیں رہتا ، کیونکہ غافل لوگ ہلاکت میں جا پڑتے ہیں