Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-A'raf 7:171

7:171
۞ واذ نتقنا الجبل فوقهم كانه ظلة وظنوا انه واقع بهم خذوا ما اتيناكم بقوة واذكروا ما فيه لعلكم تتقون ١٧١
۞ وَإِذْ نَتَقْنَا ٱلْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَأَنَّهُۥ ظُلَّةٌۭ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُۥ وَاقِعٌۢ بِهِمْ خُذُوا۟ مَآ ءَاتَيْنَـٰكُم بِقُوَّةٍۢ وَٱذْكُرُوا۟ مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ١٧١
۞ وَإِذۡ
نَتَقۡنَا
ٱلۡجَبَلَ
فَوۡقَهُمۡ
كَأَنَّهُۥ
ظُلَّةٞ
وَظَنُّوٓاْ
أَنَّهُۥ
وَاقِعُۢ
بِهِمۡ
خُذُواْ
مَآ
ءَاتَيۡنَٰكُم
بِقُوَّةٖ
وَٱذۡكُرُواْ
مَا
فِيهِ
لَعَلَّكُمۡ
تَتَّقُونَ
١٧١
われがかれらの上で天蓋のように山を揺り動かし,かれらがそれが自分たちの上に落ちてくると考えた時を思え。(その時われは言った。)「われがあなたがたに授けたもの(啓典)を堅く守り,その中にあることを銘記せよ。そうすればあなたがたは,主を畏れるであろう。」

— Ryoichi Mita

Và (Ngươi - hỡi Thiên Sứ, hãy nhớ lại) khi TA nhấc ngọn núi lên bên trên (dân Israel) tựa như nó là tán che (trên đầu của họ) và họ tưởng nó sẽ rơi xuống đè họ. (TA) phán bảo: “Các ngươi hãy nắm chặt những gì TA đã ban cho các ngươi và các ngươi hãy ghi nhớ các điều răn dạy trong đó, mong rằng các ngươi sẽ ngoan đạo.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
باب

اسی طرح کی آیت «وَرَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّورَ بِمِيثَاقِهِمْ» [4-النساء:154] ‏ ہے یعنی ” ہم نے ان کے سروں پر طور پہاڑ لا کھڑا کیا۔ “ اسے فرشتے اٹھا لائے تھے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”جب موسیٰ علیہ السلام انہیں ارض مقدس کی طرف لے چلے اور غصہ اتر جانے کے بعد تختیاں اٹھا لیں اور ان میں جو حکم احکام تھے، وہ انہیں سنائے تو انہیں وہ سخت معلوم ہوئے اور تسلیم و تعمیل سے صاف انکار کر دیا تو بحکم الٰہی فرشتوں نے پہاڑ اٹھا کر ان کے سروں پر لا کھڑا کر دیا۔“ (‏نسائی)

مروی ہے کہ جب کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ لو اللہ کی کتاب کے احکام قبول کرو تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں سناؤ، اس میں کیا احکام ہیں؟ اگر آسان ہوئے تو ہم منظور کر لیں گے۔ ورنہ نہ مانیں گے۔ موسیٰ علیہ السلام کے باربار کے اصرار پر بھی یہ لوگ کہتے رہے۔ آخر اسی وقت اللہ کے حکم سے پہاڑ اپنی جگہ سے اٹھ کر ان کے سروں پر معلق کھڑا ہو گیا اور اللہ کے پیغمبر نے فرمایا: بولو اب مانتے ہو یا اللہ تعالیٰ تم پر پہاڑ گرا کر تمہیں فنا کر دے؟ اسی وقت یہ سب کے سب مارے ڈر کے سجدے میں گر پڑے لیکن بائیں آنکھ سجدے میں تھی اور دائیں سے اوپر دیکھ رہے تھے کہ کہیں پہاڑ گر نہ پڑے۔ چنانچہ یہودیوں میں اب تک سجدے کا طریقہ یہی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اسی طرح کے سجدے نے ہم پر سے عذاب الٰہی دور کر دیا ہے۔ پھر جب موسیٰ علیہ السلام نے ان تختیوں کو کھولا تو ان میں کتاب تھی جسے خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا۔ اسی وقت تمام پہاڑ، درخت، پتھر سب کانپ اٹھے۔ آج بھی یہودی تلاوت تورات کے وقت کانپ اٹھتے ہیں اور ان کے سر جھک جاتے ہیں۔

صفحہ نمبر3119