Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-A'raf 7:172

7:172
واذ اخذ ربك من بني ادم من ظهورهم ذريتهم واشهدهم على انفسهم الست بربكم قالوا بلى شهدنا ان تقولوا يوم القيامة انا كنا عن هاذا غافلين ١٧٢
وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنۢ بَنِىٓ ءَادَمَ مِن ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۖ قَالُوا۟ بَلَىٰ ۛ شَهِدْنَآ ۛ أَن تَقُولُوا۟ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَـٰذَا غَـٰفِلِينَ ١٧٢
وَإِذۡ
أَخَذَ
رَبُّكَ
مِنۢ
بَنِيٓ
ءَادَمَ
مِن
ظُهُورِهِمۡ
ذُرِّيَّتَهُمۡ
وَأَشۡهَدَهُمۡ
عَلَىٰٓ
أَنفُسِهِمۡ
أَلَسۡتُ
بِرَبِّكُمۡۖ
قَالُواْ
بَلَىٰ
شَهِدۡنَآۚ
أَن
تَقُولُواْ
يَوۡمَ
ٱلۡقِيَٰمَةِ
إِنَّا
كُنَّا
عَنۡ
هَٰذَا
غَٰفِلِينَ
١٧٢
あなたがたの主が,アーダムの子孫の背骨からかれらの子孫を取り出され,かれらを自らの証人となされた時を思え。(その時かれは仰せられた。)「われは,あなたがたの主ではないか。」 かれらは申し上げた。「はい,わたしたちは証言いたします。」これは復活の日にあなたがたに ,「わたしたちは,このことを本当に注意しませんでした。」と言わせないためである。

— Ryoichi Mita

(Ngươi - Thiên Sứ Muhammad – hãy nhớ lại) khi Thượng Đế của Ngươi bắt con cháu của Adam, hậu duệ của họ được tạo ra từ các xương sống của họ, xác nhận đối với chính bản thân họ (trước câu hỏi): “Có phải TA là Thượng Đế của các ngươi?” Họ đáp: “Bẩm, đúng vậy (Ngài chính là Thượng Đế của bầy tôi). Bầy tôi xin xác nhận.” (Việc TA hỏi các ngươi như thế là bởi vì e rằng) vào Ngày Phán Xét Cuối Cùng, các ngươi sẽ nói: “Bầy tôi thực sự đã không biết điều này.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 7:172 đến 7:174

ایک جانور کو اس کے ماں باپ سے الگ کردیا جائے اور اس کی پرورش بالکل علیٰحدہ ماحول میں کی جائے تب بھی بڑا ہو کر وہ مکمل طورپر اپنی نسلی خصوصیات پر قائم رہتا ہے۔ وہ اپنے تمام معاملات میں عین وہی طریقہ اختیار کرتا ہے جو اس کی جبلت (instinct) میں پیوست ہے۔ یہی معاملہ انسان کا ’’شعور رب‘‘ کے بارے میں ہے۔ انسان کی روح میں ایک خالق ومالک کا شعور اتنی گہرائی کے ساتھ جما دیا گیا ہے کہ وہ کسی حال میں اس سے جدا نہیں ہوتا۔ موجودہ زمانہ میں ایک اعتبار سے روس اور دوسرے اعتبار سے ترکی کا تجربہ بتاتا ہے کہ مکمل طورپر مخالفِ مذہب ماحول میں تربیت پانے کے باوجود انسان کی فطرت عین وہی باقی رہتی ہے جو اقرارِ مذہب کے ماحول میں ہمیشہ پائی جاتی رہی ہے۔

تاہم جانور اور انسان میں ایک فرق ہے۔ جانور اپنی فطرت کي خلاف ورزی پر قادر نہیں۔ وہ مجبور ہیں کہ عملاً بھی وہی کریں جو ان کے اندر کی فطرت انھیںسبق دے رہی ہے۔ اس کے برعکس، انسان کا حال یہ ہے کہ شعور فطرت کی حد تک پابند ہونے کے باوجود عمل کے معاملے میں وہ پوری طرح آزاد ہے۔ جب بھی کوئی بات سامنے آتی ہے تو اس کی عقل اور اس کا ضمیر اندر سے اشارہ کرتے ہیں کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔ مگر اس کے باوجود انسان کو اختیار ہے کہ وہ چاہے اپنی اندرونی آواز کی پیروی کرے، چاہے اس کو نظر انداز کرکے مَن مانی کارروائی کرنے لگے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کا امتحان ہورہا ہے اور اسی پر جنت اور جہنم کا فیصلہ ہونا ہے۔ جو شخص خدائی آواز پر کان لگائے اور وہی کرے جو خدا فطرت کی خاموش زبان میں اس سے کہہ رہا ہے، وہ امتحان میں پورا اترا۔ اس کے مرنے کے بعد ا س کے ليے جنت کے دروازے کھول ديے جائیں گے۔ اور جو شخص فطرت کی سطح پر نشر ہونے والی خدائی آواز کو نظر انداز کردے وہ خدا کی نظر میں مجرم ہے۔ اس کو مرنے کے بعد جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ خدا بھی اس کو نظر انداز کردے گا جس طرح اس نے خدا کی آواز کو نظر انداز کیا تھا۔

فطرت کی یہ آواز ہر آدمی کے اوپر خدا کی دلیل ہے۔ اب کسی کے پاس نہ تو بے خبری کا عذر ہے اور نہ کوئی یہ کہہ سکتاہے کہ ماضی سے جو چلا آرہا تھا وہی ہم بھی کرنے لگے۔ جب انسان پیدائش ہی سے خدا کا شعور لے کر آتاہے اور ماحول کے علی الرغم اس کو ہمیشہ باقی رکھتا ہے تو اب کسی شخص کے پاس بے راہ ہونے کا کیا عذر ہے۔