Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-A'raf 7:188

7:188
قل لا املك لنفسي نفعا ولا ضرا الا ما شاء الله ولو كنت اعلم الغيب لاستكثرت من الخير وما مسني السوء ان انا الا نذير وبشير لقوم يومنون ١٨٨
قُل لَّآ أَمْلِكُ لِنَفْسِى نَفْعًۭا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُ ۚ وَلَوْ كُنتُ أَعْلَمُ ٱلْغَيْبَ لَٱسْتَكْثَرْتُ مِنَ ٱلْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِىَ ٱلسُّوٓءُ ۚ إِنْ أَنَا۠ إِلَّا نَذِيرٌۭ وَبَشِيرٌۭ لِّقَوْمٍۢ يُؤْمِنُونَ ١٨٨
قُل
لَّآ
أَمۡلِكُ
لِنَفۡسِي
نَفۡعٗا
وَلَا
ضَرًّا
إِلَّا
مَا
شَآءَ
ٱللَّهُۚ
وَلَوۡ
كُنتُ
أَعۡلَمُ
ٱلۡغَيۡبَ
لَٱسۡتَكۡثَرۡتُ
مِنَ
ٱلۡخَيۡرِ
وَمَا
مَسَّنِيَ
ٱلسُّوٓءُۚ
إِنۡ
أَنَا۠
إِلَّا
نَذِيرٞ
وَبَشِيرٞ
لِّقَوۡمٖ
يُؤۡمِنُونَ
١٨٨
言ってやるがいい。「わたしはアッラーが御好みにならない限り,自分自身のための利害すら自由に出来ない。わたしがもし幽玄界を知っているならば,わたしは善いことを増し,また災厄に会わなかったであろう。わたしは只の一人の警告者で,信仰する者への吉報を知らせる一人の伝達者に過ぎない。

— Ryoichi Mita

Ngươi (hỡi Thiên Sứ) hãy nói: “Ta không có quyền năng chi phối điều lợi hoặc điều hại cho bản thân mình ngoại trừ những gì Allah muốn. Nếu Ta thực sự biết điều vô hình thì Ta đã thu gom cho bản thân mình nhiều điều tốt đẹp và đã không có bất kỳ điều xấu nào chạm đến Ta. Quả thật, Ta chỉ là một người cảnh báo (về Hỏa Ngục) và một người báo tin mừng (về Thiên Đàng) cho những người có đức tin.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب نہیں تھا ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرماتا ہے کہ آپ تمام کام اللہ کے سپرد کریں اور صاف کہہ دیں کہ غیب کی کسی بات کا مجھے علم نہیں، میں تو صرف وہ جانتا ہوں جو اللہ تعالیٰ مجھے معلوم کرا دے۔

جیسے سورۃ الجن میں ہے کہ «عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا» [72-الجن:26] ‏ ” عالم الغیب اللہ تعالیٰ ہی ہے، وہ اپنے غیب پر کسی کو آگاہ نہیں کرتا۔ “

مجھے اگر غیب کی اطلاع ہوتی تو میں اپنے لیے بہت سی بھلائیاں سمیٹ لیتا۔ مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ”اگر مجھے اپنی موت کا علم ہوتا تو نیکیوں میں بھی سبقت لے جاتا۔“ لیکن یہ قول غور طلب ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال دائمی تھے، جو نیکی ایک بار کرتے، پھر اسے معمول بنا لیتے۔ [صحیح بخاری:1987] ‏

ساری زندگی اور زندگی کا ہر ایک دن بلکہ ہر ایک گھڑی ایک ہی طرح کی تھی۔ گویا کہ آپ کی نگاہیں ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف لگتی رہتی تھیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ بات یوں ہو سکتی ہے کہ دوسروں کو میں ان کی موت کے وقت سے خبردار کر کے انہیں اعمال نیک کی رغبت دلاتا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اس سے زیادہ اچھا قول اس کی تفسیر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے کہ ”میں مال جمع کر لیتا، مجھے معلوم ہو جاتا کہ اس چیز کے خریدنے میں نفع ہے، میں اسے خرید لیتا۔

صفحہ نمبر3157

جانتا کہ اس کی خریداری میں نقصان ہے، نہ خریدتا۔ خشک سالی کے لیے ترسالی میں ذخیرہ جمع کر لیتا، ازرانی کے وقت گرانی کے علم سے سودا جمع کر لیتا۔ کبھی کوئی برائی مجھے نہ پہنچتی کیونکہ میں علم غیب سے جان لیتا کہ یہ برائی ہے تو میں پہلے سے ہی اس سے جتن کر لیتا۔ لیکن میں علم غیب نہیں جانتا۔ اس لیے فقیری بھی مجھ پر آتی ہے، تکلیف بھی ہوتی ہے۔ مجھ میں تم یہ وصف نہ مانو۔ سنو! مجھ میں وصف یہ ہے کہ میں برے لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈراتا ہوں، ایمانداروں کو جنت کی خوشخبری سناتا ہوں۔“

جیسے کہ ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں «فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنذِرَ بِهِ قَوْمًا لُّدًّا» [19-مريم:97] ‏ ” ہم نے اسے تیری زبان پر آسان کر دیا ہے کہ تو پرہیزگاروں کو خوشخبری سنا دے اور بروں کو ڈرا دے۔ “

صفحہ نمبر3158