Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-A'raf 7:19

7:19
ويا ادم اسكن انت وزوجك الجنة فكلا من حيث شيتما ولا تقربا هاذه الشجرة فتكونا من الظالمين ١٩
وَيَـٰٓـَٔادَمُ ٱسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ ٱلْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَـٰذِهِ ٱلشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ ٱلظَّـٰلِمِينَ ١٩
وَيَٰٓـَٔادَمُ
ٱسۡكُنۡ
أَنتَ
وَزَوۡجُكَ
ٱلۡجَنَّةَ
فَكُلَا
مِنۡ
حَيۡثُ
شِئۡتُمَا
وَلَا
تَقۡرَبَا
هَٰذِهِ
ٱلشَّجَرَةَ
فَتَكُونَا
مِنَ
ٱلظَّٰلِمِينَ
١٩
(それからアーダムに仰せられた。) 「アーダムよ,あなたとあなたの妻は楽園に住み,随所であなたがた(の好むものを)食べなさい。只この樹に近付いて不義を犯してはならない。」

— Ryoichi Mita

(Allah) phán: “Này Adam, Ngươi và vợ của Ngươi hãy sống trong Thiên Đàng, hai Ngươi hãy ăn thỏa thích những gì mình muốn, nhưng hai Ngươi chớ đừng đến gần cây này kẻo hai Ngươi trở thành những kẻ làm điều sai quấy.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

آیت ” نمبر 19۔

قرآن کریم نے اس درخت کا نام نہیں لیا کیونکہ درخت کا نام لینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اصل بات یہ تھی کہ انہیں صرف منع کرنا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تمام حلال چیزوں کے استعمال کی اجازت دے دی تھی اور ممنوعات کے استعمال سے روک دیا تھا ۔ ممنوعات کی حد اس لئے ضروری تھی تاکہ انسان کو معلوم ہوجائے کہ وہ اس سے آگے نہیں جاسکتا اور اس کو رادہ واختیار کی جو آزادی دی گئی ہے اس کو استعمال کرکے وہ اپنی خواہشات اور میلانات پر کنٹرول کرنا سیکھے ۔ اور خواہشات اور میلانات پر برتری حاصل کرے ۔ وہ حیوانات کی طرح خواہشات کا غلام نہ ہو بلکہ خواہشات کا حاکم ہو ۔ کیونکہ ایک انسان اور حیوان میں فرق ہی یہ ہے کہ انسان خواہشات پر قابو رکھتا ہے اور حیوان خواہشات پر کوئی کنٹرول نہیں رکھتا ۔

اب ابلیس اپنا وہ کام شروع کرتا ہے جس کے لئے اس نے اپنے آپ کو وقف کرلیا ہے ۔ یہ انسان جسے اللہ نے یہ اعزاز دیا اور جس کی تخلیق کا اعلان عالم بالا کی اس عظیم تقریب میں کیا گیا ‘ جسے تمام فرشتوں نے سجدہ ریز ہو کر سلامی دی اور جس کے سامنے سجدہ ریز نہ ہونے کی بنا پر ابلیس کو عالم بالا سے خارج البلد کیا گیا ۔ یہ مخلوق اپنے اندر دو صلاحیتیں رکھتی ہے ۔ یہ دونوں جانب جاسکتی ہے اور اس مخلوق میں بعض کمزور یونٹ بھی ہیں جن سے اسے پکڑا جاسکتا ہے الا یہ کہ وہ امر الہی پر کاربند ہوجائے ۔ ان کمزور مقامات سے اس پر حملہ کیا جاسکتا ہے اور اس پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔ ان کمزور نکات میں سے ایک ہے شہوات نفسانیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذرا دیکھئے شیطان ان نکات سے کس طرح انسان پر قابو پاتا ہے ۔