Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-A'raf 7:198

7:198
وان تدعوهم الى الهدى لا يسمعوا وتراهم ينظرون اليك وهم لا يبصرون ١٩٨
وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى ٱلْهُدَىٰ لَا يَسْمَعُوا۟ ۖ وَتَرَىٰهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ ١٩٨
وَإِن
تَدۡعُوهُمۡ
إِلَى
ٱلۡهُدَىٰ
لَا
يَسۡمَعُواْۖ
وَتَرَىٰهُمۡ
يَنظُرُونَ
إِلَيۡكَ
وَهُمۡ
لَا
يُبۡصِرُونَ
١٩٨
もしあなたがかれら(クライシュ族)を正道に招いても,かれらは聞かない。あなたはかれらが,あなたを見守っているのを見よう。だがかれらは見てはいないのである。

— Ryoichi Mita

Dẫu các ngươi (hỡi những kẻ thờ cúng bục tượng) có kêu gọi chúng (các thần linh của các ngươi) đến với nguồn chỉ đạo thì chúng cũng không nghe. Ngươi (hỡi Thiên Sứ) sẽ thấy (các thần linh của những kẻ đa thần đó) hướng mắt về Ngươi nhưng thật ra chúng không nhìn thấy gì cả.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 7:195 đến 7:198

بت پرست لوگ پتھر یا دھات کی جو مورتیاں بناتے ہیں، اس کا فلسفہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ خارجی مظاہر ہیں، جن کے اندر ان کا مزعومہ دیوتا حلول کر آیا ہے۔ ان مظاہر کی پرستش ان کے نزدیک اُن معبودوں کی پرستش ہے جن کی وہ محسوس علامتیں ہیں۔ تاہم عوام کی سطح پر عملاً بت پرستی جو شکل اختیار کرتی ہے وہ یہ کہ لوگ خود ان مورتیوں کو مقدس سمجھنے لگتے ہیں۔ ان بتوں میں نہ چلنے کی طاقت ہوتی، نہ پکڑنے کی، نہ دیکھنے کی اور نہ سننے کی۔ مگر وہی انسان ان کی بابت یہ فرض کرلیتاہے کہ وہ اس کے کام آئیں گے اور اس کی حاجتیں پوری کریں گے۔

تاہم یہ معاملہ معروف قسم کے بتوں کا ہی نہیں ہے۔ ان کے سوا جن چیزوں کو انسان معبودیت کا درجہ دیتاہے ان کا حال بھی یہ ہے ، وطن اور قوم سے لے کر زندہ یا مردہ شخصیتوں تک جن چیزوں سے بھی وہ جذبات وابستہ كيے جاتے ہیں جو صرف ایک خدا کا حق ہے، ان کی حقیقت کیاہے۔ ان میں سے کسی کے پاس بھی کوئی ذاتي طاقت نہیں۔ کوئی بھی پاؤں یا ہاتھ یا آنکھ والا ایسا نہیں جس کے پاؤں اور ہاتھ اور آنکھ اس کے اپنے ہوں۔ ہر ’’پاؤں‘‘ والے کے پاس دیاہوا پاؤں ہے اور اگر اس کا پاؤں چھن جائے تو وہ اس کو دوبارہ واپس نہیں لاسکتا۔ ہر ’’ہاتھ‘‘ والے کے پاس دیا ہوا ہاتھ ہے اور اگر اس کا ہاتھ باقی نہ رہے تو وہ دوبارہ اپنا ہاتھ نہیں بنا سکتا۔ ہر ’’آنکھ‘‘ والے کی آنکھ دی ہوئی آنکھ ہے اور اگر اس کی آنکھ جاتی رہے تو اس کے ليے ممکن نہیں کہ وہ دوبارہ اپنے ليے آنکھ تیار کرلے۔

غیر اللہ کی پرستش کرنے والے لوگ اپنے بتوں کے بھروسہ پر ہمیشہ ایک خدا کے پرستاروں پر ظلم کرتے رہے ہیں۔ مگر یہ لوگ بہت جلد جان لیں گے کہ خدا کی اس دنیا میں ان کا بھروسہ کس قدر بے بنیاد تھا۔ جس خدا کا ظہور موجودہ دنیا میں کتابی میزان کی صورت میںہوا ہے، اس کا ظہور عنقریب عدالتی میزان کی صورت میں ہونے والا ہے۔ اس وقت ہر آدمی دیکھ لے گا کہ کام بنانے والا صرف خدا تھا۔ اگر چہ آدمی اپنی نادانی کی وجہ سے دوسروں کو اپنا کام بنانے والا سمجھتا رہا۔ شریکوں کے پاس تو سرے سے مدد کرنے کی کوئی طاقت ہی نہیں، مگر خدا اپنے وفادار بندوں کی مدد دنیا میں بھی کرتاہے۔ اور آخرت میں بھی۔