Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-A'raf 7:206

7:206
ان الذين عند ربك لا يستكبرون عن عبادته ويسبحونه وله يسجدون ۩ ٢٠٦
إِنَّ ٱلَّذِينَ عِندَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِهِۦ وَيُسَبِّحُونَهُۥ وَلَهُۥ يَسْجُدُونَ ۩ ٢٠٦
إِنَّ
ٱلَّذِينَ
عِندَ
رَبِّكَ
لَا
يَسۡتَكۡبِرُونَ
عَنۡ
عِبَادَتِهِۦ
وَيُسَبِّحُونَهُۥ
وَلَهُۥ
يَسۡجُدُونَۤ۩
٢٠٦
本当にあなたの主の側近にいる者は,かれを崇めるのに慢心することなく,かれの栄光を讃えて唱念し,かれにサジダする。〔サジダ〕

— Ryoichi Mita

Quả thật (các Thiên Thần) ở nơi Thượng Đế của Ngươi (hỡi Thiên Sứ) không hề tự cao tự đại trước việc thờ phượng Ngài; Họ luôn tán dương và quỳ lạy Ngài.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

اب اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے سامنے ملائکہ مقربین کی مثال پیش کرتے ہیں۔ وہ جن پر شیطان کی اکساہٹ کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ ان کے اندر تخلیقی اعتبار سے کوئی کمی نہیں ہوتی نہ ان کے اندر شہوات ہوتی ہیں اور نہ میلانات ہوتے ہیں۔ وہ رات دن ذکر الہی میں مشغول ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کی بندگی میں نہ کوئی تقصیر کرتے ہیں اور نہ غرور کرتے ہیں حالانکہ اللہ کی بندگی اور تسبیح کرنے کے معاملے میں انسان ان سے زیادہ محتاج ہے۔ انسان کی راہ میں زیادہ مشکلات ہیں اور اس پر شیطان کی اکساہٹ کا اثر بھی جلد ہوتا ہے۔ انسان تباہ کن غفلت کا ارتکاب بھی کرسکتا ہے۔ انسان کی سعی بھی محدود ہے ، اگر ذکر الہی کا توشہ نہ ہو تو اس کے لیے منزل تک پہنچنا ہی دشوار ہے۔

۔۔۔

عبادت اور ذکر الہی دین اسلام کے اساسی طریقوں میں شامل ہیں۔ یہ محض علم و معرفت کا طریق کار نہیں ہیں نہ لاہوتی جدلیات سے ان کا تعلق ہے بلکہ ان کا تعلق سلوک و عمل اور عملی حرکت کے ساتھ ہے۔ اور اس کے ذریعے انسان کی عملی دنیا کو بدلنا مطلوب ہوتا ہے۔ انسان کی عملی زندگی کی جڑیں لوگوں کے نفس کے اندر ہوتی ہیں ، عمل کی اساس کے خزانے انسان کے اندر ہوتے ہیں ، لوگوں کو عملاً جاہلیت سے نکالنا اور اسلامی منہاج میں داخل کرنا ایک مشکل کام ہے اور اس کے لیے نہایت ہی مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اس راہ کی مشکلات پر صبر ایوبی کی ضرورت ہے جبکہ داعی کی طاقت محدود ہوتی ہے۔ اس لیے داعی کے لیے اس محدود قوت کے ساتھ اضافی قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ قوت محض علم و معرفت اور دلیل وبرہان سے حاصل نہیں ہوتی ہے۔ اس کا سرچشمہ عبادت ، تعلق باللہ اور اللہ کی نصرت میں ہوتا ہے۔ یہی وہ توشہ ہے جو ختم نہیں ہوتا۔ اور یہی سرچشمہ نصرت ہے جو اس طویل اور خطرناک راہ میں درکار ہوتا ہے۔

اس سورت کا آغاز ان الفاظ سے ہوا۔ کتاب انزل الیک " یہ کتاب ہے جو تمہاری جانب نازل کی گئی ہے۔ پس اے نبی تمہارے دل میں اس سے کوئی جھجک نہ ہو۔ اس کے اتارنے کی غرض یہ ہے کہ تم اس کے ذریعے منکرین کو ڈراؤ اور ایمان لانے والوں کو نصیحت ہو "

پوری سورة میں قافلہ اہل حق کی کہانیاں بیان ہوئی اور اس قافلے کی قیادت رسل کرام اپنے اپنے اوقات میں کرتے رہے۔ راستے پر شیطان رجیم ان کی راہ بار بار روکتا رہا۔ جنوں اور انسانوں کے شیاطین ان کو اذیت دیتے رہے ، اس دنیا کے جبار وقہار ان پر مظالم ڈھاتے رہے اور طاغوتی نظاموں کے ہر کارے ان کے آڑے آتے رہے۔ یہ وہ لوگ تھے جو لوگوں کی گردنوں پر سوار ہوکر ان کو غلام بنا رہے تھے۔

بیشک یہی ہے اس راستے کا توشہ اور یہی ہے اس راستے کے معزز مسافروں کا سازوسامان۔