Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-A'raf 7:21

7:21
وقاسمهما اني لكما لمن الناصحين ٢١
وَقَاسَمَهُمَآ إِنِّى لَكُمَا لَمِنَ ٱلنَّـٰصِحِينَ ٢١
وَقَاسَمَهُمَآ
إِنِّي
لَكُمَا
لَمِنَ
ٱلنَّٰصِحِينَ
٢١
そしてかれは,かれら両人に誓っ(て言っ)た。「わたしはあなたがたの心からの忠告者である。」

— Ryoichi Mita

Hắn đã thề thốt với hai người họ, bảo: “Thật ra ta chỉ là một người cố vấn thật lòng cho hai người thôi.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 7:19 đến 7:21
پہلا امتحان اور اسی میں لغزش اور اس کا انجام ٭٭

ابلیس کو نکال کر آدم و حواء علیہم السلام کو جنت میں پہنچا دیا گیا اور بجز ایک درخت کے، انہیں ساری جنت کی چیزیں کھانے کی رخصت دے دی گئی۔ اس کا تفصیلی بیان سورۃ البقرہ کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔

شیطان کو اس سے بڑا ہی حسد ہوا، ان کی نعمتوں کو دیکھ کر لعین جل گیا اور ٹھان لی کہ جس طرح سے ہو، انہیں بہکا کر اللہ کے خلاف کرا دوں۔ چنانچہ جھوٹ، افتراء باندھ کر ان سے کہنے لگا کہ دیکھو یہ درخت وہ ہے جس کے کھانے سے تم فرشتے بن جاؤ گے اور ہمیشہ کی زندگی اسی جنت میں پاؤ گے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ ابلیس نے کہا: میں تمہیں ایک درخت کا پتہ دیتا ہوں جس سے تمہیں بقاء اور ہمیشگی والا ملک مل جائے گا۔ یہاں ہے کہ ان سے کہا: تمہیں اس درخت سے اس لیے روکا گیا ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ۔ جیسے فرمان ہے «يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَن تَضِلُّواْ» [4-النساء:176] ‏ مطلب یہ ہے کہ «أَن لَّا تَضِلُّواْ»

اور آیت میں ہے «وَأَلْقَى فِى الاٌّرْضِ رَوَاسِىَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ» [16-النحل:15] ‏ «أَن تَمِيدَ بِكُمْ» یہاں بھی یہی مطلب ہے۔

«مَلَكَيْنِ» کی دوسری قرأت «مَلِكَيْنِ» بھی ہے لیکن جمہور کی قرأت «لام» کے زبر کے ساتھ ہے۔

پھر اپنا اعتبار جمانے کیلئے قسمیں کھانے لگا کہ دیکھو میری بات کو سچ مانو، میں تمہارا خیرخواہ ہوں۔ تم سے پہلے سے ہی یہاں رہتا ہوں، ہر ایک چیز کے خواص سے واقف ہوں۔ تم اسے کھا لو، بس پھر یہیں رہو گے بلکہ فرشتے بن جاؤ گے۔ «قَاسَمَ» گو باب «مفاعلہ» سے ہے اور اس کی خاصیت طرفین کی مشارکت ہے لیکن یہاں یہ خاصیت نہیں ہے۔ ایسے اشعار بھی ہیں جہاں «قَاسَمَ» آیا ہے اور صرف ایک طرف کے لیے۔

اس قسم کی وجہ سے اس خبیث کے بہکاوے میں آدم علیہ السلام آ گئے۔ سچ ہے! مومن اس وقت دھوکا کھا جاتا ہے جب کوئی ناپاک انسان اللہ کو بیچ میں دیتا ہے۔ چنانچہ سلف کا قول ہے کہ ہم اللہ کے نام کے بعد اپنے ہتھیار ڈال دیا کرتے ہیں۔

صفحہ نمبر2873