Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-A'raf 7:29

7:29
قل امر ربي بالقسط واقيموا وجوهكم عند كل مسجد وادعوه مخلصين له الدين كما بداكم تعودون ٢٩
قُلْ أَمَرَ رَبِّى بِٱلْقِسْطِ ۖ وَأَقِيمُوا۟ وُجُوهَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍۢ وَٱدْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ ۚ كَمَا بَدَأَكُمْ تَعُودُونَ ٢٩
قُلۡ
أَمَرَ
رَبِّي
بِٱلۡقِسۡطِۖ
وَأَقِيمُواْ
وُجُوهَكُمۡ
عِندَ
كُلِّ
مَسۡجِدٖ
وَٱدۡعُوهُ
مُخۡلِصِينَ
لَهُ
ٱلدِّينَۚ
كَمَا
بَدَأَكُمۡ
تَعُودُونَ
٢٩
言ってやるがいい。「わたしの主は,正義を命じられる。それであなたがたは全霊をうち込み,何処のマスジドでも,かれに信心の誠を尽くして祈りなさい。最初あなたがたを創られたように,あなたがたは(かれに)帰るのである。

— Ryoichi Mita

Ngươi (hỡi Thiên Sứ) hãy nói (với những kẻ đa thần): “Thượng Đế của Ta chỉ sai bảo toàn điều công lý; (Ngài bảo) các ngươi phải hướng mặt (về Allah) trong mỗi nơi thờ phượng; (Ngài bảo) các ngươi hãy chân thành cầu nguyện Ngài. (Rồi đây các ngươi sẽ được phục sinh để trở về với Ngài) giống như việc Ngài đã khởi tạo các ngươi lúc ban đầu.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 7:29 đến 7:30

آیت ” کَمَا بَدَأَکُمْ تَعُودُونَ (29) فَرِیْقاً ہَدَی وَفَرِیْقاً حَقَّ عَلَیْْہِمُ الضَّلاَلَۃُ إِنَّہُمُ اتَّخَذُوا الشَّیَاطِیْنَ أَوْلِیَاء مِن دُونِ اللّہِ وَیَحْسَبُونَ أَنَّہُم مُّہْتَدُونَ (30)

” جس طرح اس نے تمہیں اب پیدا کیا اسی طرح تم پھر پیدا کئے جاؤ گے ۔ ایک گروہ کو تو اس نے سیدھا راستہ دکھایا ہے ‘ مگر دوسرے گروہ پر گمراہی چسپاں ہو کر رہ گئی ہے کیونکہ انہوں نے خدا کے بجائے شیاطین کو اپنا سرپرست بنا لیا ہے اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم سیدھی راہ پر ہیں ۔ “

یہ آیت ایک خوشنما خوشے کی طرح ہے جس کے اندر اس عظیم سفر انسانیت کا نقطہ آغاز اور نقطہ اختتام دونوں آگئے ہیں۔

آیت ” کَمَا بَدَأَکُمْ تَعُودُونَ (29)

” جس طرح اس نے تمہیں اب پیدا کیا اسی طرح تم پھر پیدا کئے جاؤ گے ۔ “

تمہاری زندگی کا آغاز جوڑے کی شکل میں ہوا ‘ آدم اور حوا شیطان اور اس کے حواری ‘ اسی طرح دوبارہ تمہیں پیدا کیا جائے گا ۔ ایک فریق مسلم اور مطیع ہوگا اور یہ آدم اور حوا کے زمرے میں ہوگا اور مومن ہوگا۔ دوسرا گروہ ابلیس کے حواریوں اور متبعین کا ہوگا اور اللہ ان کے ساتھ جہنم کو بھر دے گا ۔ یہ ابلیس کے دوست ہوں گے اور ابلیس ان کا دوست ہوگا اور اسی وجہ سے وہ جہنم میں جائیں گے اگرچہ ان کا خیال یہ ہوگا کہ وہ ہدایت پر ہیں ۔

جس شخص کا دوست اللہ ہو وہ ہدایت پر ہوگا اور جس شخص کا دوست شیطان ہو وہ گمراہ ہوگا اور اس طرح یہ دونوں فریق لوٹ کر آئیں گے ۔ (فریقا ھدی ۔۔۔۔۔۔۔ ) ” ایک گروہ کو تو اس نے سیدھا راستہ بنا لیا ہے۔ وہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ سیدھی راہ پر رہیں ۔ “ اسی طرح وہ واپس آرہے ہوں گے ۔ غرض ایک ہی لمحے میں سفر کا آغاز ہوا اور دوسرے میں انجام کی منظر کشی کردی گئی ۔ یہ ہے قرآن کریم کا معجزاہ انداز بیان اور قرآن کے علاوہ آج تک کسی عبارت میں یہ اسلوب نہیں پایا گیا ۔

اب بنی آدم کو دوبارہ پکارا جاتا ہے اور یہ تیسری پکار بھی اسی وقفے میں ہے ۔ آگے انسانیت کا عظیم سفر دوبارہ شروع ہونے والا ہے جو اپنے طے شدہ منصوبے کے مطابق جاری رہے گا ۔