Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-A'raf 7:64

7:64
فكذبوه فانجيناه والذين معه في الفلك واغرقنا الذين كذبوا باياتنا انهم كانوا قوما عمين ٦٤
فَكَذَّبُوهُ فَأَنجَيْنَـٰهُ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥ فِى ٱلْفُلْكِ وَأَغْرَقْنَا ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَآ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ قَوْمًا عَمِينَ ٦٤
فَكَذَّبُوهُ
فَأَنجَيۡنَٰهُ
وَٱلَّذِينَ
مَعَهُۥ
فِي
ٱلۡفُلۡكِ
وَأَغۡرَقۡنَا
ٱلَّذِينَ
كَذَّبُواْ
بِـَٔايَٰتِنَآۚ
إِنَّهُمۡ
كَانُواْ
قَوۡمًا
عَمِينَ
٦٤
だがかれらはヌーフを拒否した。それでわれは,かれと方舟の中で一緒であったものたちを救い,わが印を偽りであるとした者たちを溺れさせた。本当にかれらは盲目の民であった。

— Ryoichi Mita

Người dân (của Nuh) đã phủ nhận Y nên TA đã cứu Y và những ai theo Y trên con tàu. TA đã nhấn chìm những kẻ phủ nhận các dấu hiệu của TA, quả thật họ là đám người mù quáng.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 7:63 đến 7:64
نوح علیہ السلام پر کیا گزری؟ ٭٭

نوح علیہ السلام اپنی قوم سے فرما رہے ہیں کہ تم اس بات کو انوکھا اور تعجب والا نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے کسی انسان پر اپنی وحی نازل فرمائے اور اسے اپنی پیغمبری سے ممتاز کر دے تاکہ وہ تمہیں ہو شیار کر دے۔ پھر تم شرک و کفر سے الگ ہو کر عذاب الٰہی سے نجات پا لو اور تم پر گو نا گوں رحمتیں نازل ہوں۔

نوح علیہ السلام کی ان دلیلوں اور وعظوں سے ان سنگدلوں پر کوئی اثر نہ ہوا۔ یہ انہیں جھٹلاتے رہے، مخالفت سے باز نہ آئے، ایمان قبول نہ کیا۔ صرف چند لوگ سنور گئے۔ پس ہم نے ان لوگوں کو اپنے نبی علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں بٹھا کر طوفان سے نجات دی اور باقی لوگوں کو تہ آب غرق کر دیا۔ جیسے سورۃ نوح میں فرمایا ہے کہ وہ اپنے گناہوں کے باعث غرق کر دیئے گئے۔ پھر دوزخ میں ڈال دیئے گئے اور کوئی ایسا نہیں تھا جو ان کی کسی قسم کی مدد کرتا۔ یہ لوگ حق سے آنکھیں بند کئے ہوئے تھے، نابینا ہو گئے تھے، راہ حق انہیں آخر تک سجھائی نہ دی۔ پس اللہ نے اپنے نبی علیہ السلام کو، اپنے دوستوں کو نجات دی۔ اپنے اور ان کے دشمنوں کو تہ آب برباد کر دیا۔ جیسے اس کا وعدہ ہے کہ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی ضرور مدد فرمایا کرتے ہیں، دنیا میں ہی نہیں بلکہ آخرت میں بھی وہ ان کی امداد کرتا ہے۔ ان پرہیزگاروں کے لئے ہی عافیت ہے۔ انجام کار غالب اور مظفر و منصور یہی رہتے ہیں جیسے کہ نوح علیہ السلام آخر کار غالب رہے اور کفار ناکام و نامراد ہوئے۔ یہ لوگ تنگ پکڑ میں آ گئے اور غارت کر دئیے گئے۔ صرف اللہ کے رسول علیہ السلام کے اسی (‏۸۰) آدمیوں نے نجات پائی۔ ان ہی میں ایک صاحب جرہم نامی تھے جن کی زبان عربی تھی۔ ابن ابی حاتم میں یہ روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے متصلاً مروی ہے۔

صفحہ نمبر2951