Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-A'raf 7:98

7:98
اوامن اهل القرى ان ياتيهم باسنا ضحى وهم يلعبون ٩٨
أَوَأَمِنَ أَهْلُ ٱلْقُرَىٰٓ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًۭى وَهُمْ يَلْعَبُونَ ٩٨
أَوَأَمِنَ
أَهۡلُ
ٱلۡقُرَىٰٓ
أَن
يَأۡتِيَهُم
بَأۡسُنَا
ضُحٗى
وَهُمۡ
يَلۡعَبُونَ
٩٨
また町や村の人びとは,昼間かれらが戯れている間に訪れるわが激怒に対して,安心出来るのであろうか。

— Ryoichi Mita

Phải chăng họ cảm thấy an toàn khi sự trừng phạt của TA (bất ngờ) túm bắt họ lúc mặt trời lên cao khi họ đang vui chơi?!

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 7:97 đến 7:98

یعنی کیا لوگ سنت الٰہیہ کو دیکھتے ہوئے بھی اس قدر بےخوف ہوگئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو خوشحالی اور فراوانی دے کر اور شدائد و مصائب میں مبتلا کرکے آزماتا ہے۔ اس کے بعد ناشکروں اور نافرمانوں اور جھٹلانے والون کو تباہ و برباد کرتا ہے اور ان کی تباہی اور ہلاکت کے میدان تمہاری نظروں کے سامنے ہیں جو تباہ ہوئے اور جنہوں نے ان بستیوں کو خوب آباد کیا اور تباہی کے بعد پیچھے آنے والوں کے لئے چھوڑ دیا ، کیا وہ اس سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ان پر بھی اچانک عذاب الٰہی آجائے اور وہ غفلت اور بیخبر ی میں مبتلا ہوں اور تباہ و برباد ہوجائیں۔ عذاب دن کے کسی وقت میں آئے یا رات کو کسی ایسے وقت میں آئے کہ وہ غافل ہوں یاد رہے کہ نیند میں انسان اس طرح غرق ہوتا ہے کہ اس کے اندر کوئی شعور اور ارادہ نہیں رہتا اور نہ کوئی کام کرنے کی قوت ہوتی ہے۔ نہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کرسکتا ہے۔ نہ کسی معمولی کیڑے مکوڑے کے خلاف مدافعت کرسکتا ہے۔ اللہ جیسی عظیم قوت کے مقابلے میں تو وہ کیا کرے گا ؟ جس کے مقابلے میں کوئی انسان نہایت بیداری اور قوت و حکمت کے ساتھ بھی کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔

غرض ان پر یہ عذاب دن کو بھی آسکتا ہے جب یہ کھیل رہے ہوں ، کھیل کے وقت انسان کو کوئی ہوش نہیں ہوتا۔ وہ کھیل میں غرق ہوتا ہے اور اس کی توجہ صرف مد مقابل کی طر فہوتی ہے۔ رہا وہ حملہ جو اللہ کی جانب سے ہو تو اس کا مقابلہ تو وہ پوری تیاری اور پوری بیداری کے ساتھ بھی نہیں کرسکتا اور جب وہ غافل ہو تو کیا کرے گا۔

اللہ کا عذاب اس قدر شدید ہوتا ہے کہ وہ جاگ رہے ہوں یا سو رہے ہوں کسی حالت میں وہ اس کے آگے ٹک نہیں سکتے۔ وہ کھیل میں ہوں یا سنجیدہ حالت میں ہوں ، اس کا مقابلہ تو وہ نہیں کرسکتے ، لیکن قرآنی سیاق انسان کے سامنے اس کی زندگی کے وہ لمحات پشی کرتا ہے تاکہ انسانی شعور میں پوری طرح انسان کے ضعف اور کمزوری کا احساس پیدا کردیا جائے اور وہ محتاط ہوجائے اور اپنے بچاؤ کی فکر کرے جب تباہ کن حملہ ہو اور ایسے حالات میں ہو کہ انسان پوری طرح غفلت اور لاپرواہی میں ہو اور مکمل بیخبر ی میں اسے آ لیا جائے تو ایسے حالات میں اس کا دفاع نہایت ہی کمزور ہوتا ہے۔ رہا عذاب الٰہی تو انسان باخبر ہو یا بیخبر ہو ، اس کے مقابلے میں اس کی بےبسی بیکراں ہوگی۔