— Ryoichi Mita
— Ruwwad Center
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ہر مذہب والوں کا ایک قبلہ ہے لیکن سچا قبلہ وہ ہے جس پر مسلمان ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:193/3] ابوالعالیہ کا قول ہے کہ یہود کا بھی قبلہ ہے نصرانیوں کا بھی قبلہ ہے اور تمہارا بھی قبلہ ہے لیکن ہدایت والا قبلہ وہی ہے جس پر اے مسلمانو تم ہو۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:121/1] حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ہر ایک وہ قوم جو کعبہ کو قبلہ مانتی ہے وہ بھلائیوں میں سبقت کرے آیت «مُوَلِّيهَا» کی دوسری قرأت «مُوَلَّاھَا» ہے جیسے اور جگہ ہے آیت «لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا وَلَوْ شَاءَ اللَّـهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَـٰكِن لِّيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ إِلَى اللَّـهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا» [ 5۔ المائدہ: 48 ] ، یعنی ہر شخص کو اپنے اپنے قبلہ کی پڑی ہوئی ہے ہر شخص اپنی اپنی راہ لگا ہوا ہے پھر فرمایا کہ گو تمہارے جسم اور بدن مختلف ہو جائیں گو تم ادھر ادھر بکھر جاؤ لیکن اللہ تمہیں اپنی قدرت کاملہ سے اسی زمین سے جمع کر لے گا۔