Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Baqarah 2:148

2:148
ولكل وجهة هو موليها فاستبقوا الخيرات اين ما تكونوا يات بكم الله جميعا ان الله على كل شيء قدير ١٤٨
وَلِكُلٍّۢ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا ۖ فَٱسْتَبِقُوا۟ ٱلْخَيْرَٰتِ ۚ أَيْنَ مَا تَكُونُوا۟ يَأْتِ بِكُمُ ٱللَّهُ جَمِيعًا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ ١٤٨
وَلِكُلّٖ
وِجۡهَةٌ
هُوَ
مُوَلِّيهَاۖ
فَٱسۡتَبِقُواْ
ٱلۡخَيۡرَٰتِۚ
أَيۡنَ
مَا
تَكُونُواْ
يَأۡتِ
بِكُمُ
ٱللَّهُ
جَمِيعًاۚ
إِنَّ
ٱللَّهَ
عَلَىٰ
كُلِّ
شَيۡءٖ
قَدِيرٞ
١٤٨
各人にはその向かう方位がある。それで互いに凡ての善事を競え。あなたがたは何処にいても,アッラーは一斉にあなたがたを集められる。誠にアッラーは凡てのことに全能であられる。

— Ryoichi Mita

Mỗi một cộng đồng có một Qiblah riêng để hướng mặt về đó. Nhưng dù sao đi nữa thì các ngươi hãy thi đua nhau mà hành thiện và dẫu cho các ngươi có ở đâu thì Allah cũng triệu tập toàn bộ các ngươi về để trình diện, quả thật Allah toàn năng trên tất cả mọi thứ.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

اب بات کا رخ اصل موضوع کی طرف پھرجاتا ہے ۔ مسلمانوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اہل کتاب کی باتوں پر کان ہی نہ دھریں ۔ ان کی ہدایات و رہنمائی قبول ہی نہ کریں اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے طریق زندگی اور اپنے نقطہ نظر کی طرف بڑھتے چلے جائیں ۔ ہر گروہ کا اپنا رخ رفتار ہوتا ہے ۔ مسلمانوں کا رخ نیکی اور خیر کی طرف ہے ۔ انہیں چاہئے کہ کسی چیز کی طرف بھی نظریں نہ اٹھائیں اور بڑھتے چلے جائیں ۔ آخر کار انہیں خداوند قیامت کے سامنے حاضر ہونا ہے جو اس پر اچھی طرح قدرت رکھتا ہے کہ انہیں جمع کرے ۔ وہ قادر ہے کہ وہاں سب کو جزا وسزا دے : وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ أَيْنَمَا تَكُونُوا يَأْتِ بِكُمُ اللَّهُ جَمِيعًا إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ” ہر ایک کے لئے ایک رخ ہے ، جس کی طرف وہ مڑتا ہے ۔ بس تم بھلائیوں کی طرف سبقت کرو ۔ جہاں بھی تم ہوگے ، اللہ تمہیں پالے گا ۔ اس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ۔ “

اہل کتاب جو فتنے پھیلاتے تھے اور جو سازشیں کرتے تھے اور اللہ کے کلام کی جو تاویلات و تحریفات کرتے تھے یہاں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اہل کتاب کی ان کارستانیوں میں بالکل دلچسپی نہ لیں ۔ وہ راہ عمل پر گامزن ہوں اور نیکی کے کام میں میں ایک دوسرے کے آگے بڑھیں ۔ ساتھ ساتھ یہ یاد دہانی بھی کرائی جاتی ہے کہ آخرکار انہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے آنا ہے ۔ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔ اس کے لئے کوئی کام مشکل نہیں ہے ۔ نہ ہی کوئی چیز اس کی نظروں سے اوجھل ہوسکتی ہے ۔ یہ ہے وہ سچائی جس کے مقابلے میں تمام اقوال احوال باطل ہیں ، جن کی کچھ حقیقت ہی نہیں ہوتی۔