Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Baqarah 2:211

2:211
سل بني اسراييل كم اتيناهم من اية بينة ومن يبدل نعمة الله من بعد ما جاءته فان الله شديد العقاب ٢١١
سَلْ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ كَمْ ءَاتَيْنَـٰهُم مِّنْ ءَايَةٍۭ بَيِّنَةٍۢ ۗ وَمَن يُبَدِّلْ نِعْمَةَ ٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَإِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ ٢١١
سَلۡ
بَنِيٓ
إِسۡرَٰٓءِيلَ
كَمۡ
ءَاتَيۡنَٰهُم
مِّنۡ
ءَايَةِۭ
بَيِّنَةٖۗ
وَمَن
يُبَدِّلۡ
نِعۡمَةَ
ٱللَّهِ
مِنۢ
بَعۡدِ
مَا
جَآءَتۡهُ
فَإِنَّ
ٱللَّهَ
شَدِيدُ
ٱلۡعِقَابِ
٢١١
イスラエルの子孫に問え。われが如何に多くの明証を,かれらに下したかを。アッラーの恩恵が下った後,これを改変する者があれば,本当にアッラーは懲罰に厳重であられる。

— Ryoichi Mita

Ngươi (hỡi Thiên Sứ) hãy hỏi dân Israel rằng đã bao lần TA (Allah) đã ban cho họ dấu hiệu rõ ràng (để nhận biết về sứ mạng của Thiên Sứ vậy mà họ vẫn ngoan cố bác bỏ sự thật). Đối với ai đáp lại ân huệ của Allah (bằng sự vong ân) sau khi nó đã được trình bày rõ cho y thì quả thật Allah rất nghiêm khắc trong việc trừng phạt.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 2:208 đến 2:212

اسلام کو اختیار کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ تحفظات اور مصلحتوں کا لحاظ کيے بغیر اس کو اپنایا جائے۔ اسلام جس چیز کو کرنے کو کہے اس کو کیا جائے اور جس چیز کو چھوڑنے کو کہے اس کو چھوڑدیا جائے۔ یہ کسی آدمی کا پورے کا پورا اسلام میں داخل ہونا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی اسلام کو اسی حد تک اختیار کرے جس حد تک اسلام اس کی زندگی سے ٹکراتا نہ ہو۔ وہ اس اسلام کو لے لے جو اس کے لیے مفید یا کم از کم بے ضرر ہو۔ اور اس اسلام کو چھوڑے رہے جو اس کے محبوب عقائد، اس کی پسندیدہ عادات، اس کے دنیوی فائدے، اس کے شخصی وقار، اس کی قائدانہ مصلحتوں کو مجروح کرتا ہو۔ آدمی ابتداء ً پوری طرح ارادہ کرکے اسلام کو اختیار کرتاہے۔ مگر جب وہ وقت آتاہے کہ وہ اپنے فکری ڈھانچہ کو توڑے یا اپنے مفاد کو نظر انداز کرکے اسلام کا ساتھ دے تو وہ پھسل جاتا ہے۔ وہ ایسے اسلام پر ٹھہر جاتاہے جس میں اس کے مفادات بھی مجروح نہ ہوں اور اسلام کا تمغہ بھی ہاتھ سے جانے نہ پائے۔

اسلام کے پیغام کی صداقت پر یقین کرنے کے لیے اگر وہ دلائل چاہتے ہیں تو دلائل پوری طرح ديے جاچکے ہیں۔ اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کو معجزات دکھائے جائیں تو جو شخص کھلے کھلے دلائل کو نہ مانے اس کو چپ کرنے کے لیے معجزات بھی ناکافی ثابت ہوں گے۔ اس کے بعد آخری چیز جو باقی رہتی ہے وہ یہ کہ خدا اپنے فرشتوں کے ساتھ سامنے آجائے۔ مگر جب ایسا ہوگا تو وہ کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ کیوں کہ وہ فیصلہ کا وقت ہوگا، نہ کہ عمل کرنے کا۔ انسان کا امتحان یہی ہے کہ وہ دیکھے بغیر محض دلائل کی بنیاد پر مان لے۔ اگر اس نے دیکھ کر مانا تو اس ماننے کی کوئی قیمت نہیں۔

وہ لوگ جو مصلحتوں کو نظر انداز کرکے اسلام کو اپنائیں اور وہ لوگ جو مصلحتوں کی رعایت کرتے ہوئے مسلمان بنیں، دونوں کے حالات یکساں نہیں ہوتے۔ پہلا گروہ اکثر دنیوی اہمیت کی چیزوں سے خالی ہوجاتا ہے جب کہ دوسرے گروہ کے پاس ہر قسم کی دنیوی رونقیں جمع ہوجاتی ہیں۔ یہ چیز دوسرے گروہ کو غلط فہمی میں ڈال دیتی ہے۔ وہ اپنے کو برتر خیال کرتا ہے اور پہلے گروہ کو حقیر سمجھنے لگتاہے۔ مگر یہ صورت حال انتہائی عارضی ہے۔ موجودہ دنیا کو توڑ کر جب نیا بہتر نظام بنے گا تو وہاں آج کے ’’بڑے‘‘ پست کرديے جائیں گے اور وہی لوگ بڑائی کے مقام پر نظر آئیں گے جن کو آج ’’چھوٹا‘‘ سمجھ لیا گیا تھا۔