Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Baqarah 2:212

2:212
زين للذين كفروا الحياة الدنيا ويسخرون من الذين امنوا والذين اتقوا فوقهم يوم القيامة والله يرزق من يشاء بغير حساب ٢١٢
زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا وَيَسْخَرُونَ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ۘ وَٱلَّذِينَ ٱتَّقَوْا۟ فَوْقَهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۗ وَٱللَّهُ يَرْزُقُ مَن يَشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍۢ ٢١٢
زُيِّنَ
لِلَّذِينَ
كَفَرُواْ
ٱلۡحَيَوٰةُ
ٱلدُّنۡيَا
وَيَسۡخَرُونَ
مِنَ
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْۘ
وَٱلَّذِينَ
ٱتَّقَوۡاْ
فَوۡقَهُمۡ
يَوۡمَ
ٱلۡقِيَٰمَةِۗ
وَٱللَّهُ
يَرۡزُقُ
مَن
يَشَآءُ
بِغَيۡرِ
حِسَابٖ
٢١٢
現世の生活は,不信心な者たちにとり魅惑的である。そしてかれらは信仰する者たちを嘲り笑う。だが(主に対して自分の)義務を果たす者は,復活の日にかれらの上位に立つであろう。 アッラーは,御望みの者に限りなく与えられる。

— Ryoichi Mita

Sự lộng lẫy, hào nhoáng của cuộc sống trần tục đã lôi cuốn những kẻ vô đức tin, đâm ra họ chê cười những người có đức tin cũng như những người sợ Đấng bên trên họ vào Ngày Phán Xét. Tuy nhiên, Allah muốn ban phát bổng lộc vô hạn cho ai tùy ý Ngài.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 2:211 đến 2:212
احسان فراموش اسرائیل اور ترغیب صدقات ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ دیکھو بنی اسرائیل کو میں نے بہت سے معجزات دکھلا دئیے موسیٰ علیہ السلام کہ ہاتھوں لکڑی ان کے ہاتھ کی روشنی ان کے لیے دریا کو چیر دینا ان پر سخت گرمیوں میں ابر کا سایہ کرنا من وسلویٰ اتارنا وغیرہ وغیرہ جن سے میرا خود مختار فاعل کل ہونا صاف ظاہر تھا اور میرے نبی موسیٰ علیہ السلام کی نبوت کی کھلی تصدیق تھی لیکن تاہم ان لوگوں نے میری ان نعمتوں کا کفر کیا اور بجائے ایمان کے کفر پر آڑے رہے اور میری نعمتوں پر بجائے شکر کے ناشکری کی پھر بھلا میرے سخت عذاب سے یہ کیسے بچ سکتے؟ یہی خبر کفار و قریش کے بارے میں بھی بیان فرمائی ارشاد ہے آیت «اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ» [ 14۔ ابرہیم: 29، 28 ] ‏ کیا تو نے ان لوگوں کو دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر یعنی جہنم جیسی بدترین قرار گاہ میں پہنچا دیا۔

صفحہ نمبر750

پھر بیان ہوتا ہے کہ یہ کفار صرف دنیا کی زندگی پر دیوانے ہوئے ہیں مال جمع کرنا اور اللہ کی راہ کے خرچ میں بخل کرنا یہی ان کا رنگ ڈھنگ ہے، بلکہ ایماندار اس دنیائے فانی سے سیر چشم ہیں اور پروردگار کی رضا مندی میں اپنے مال لٹاتے رہتے ہیں یہ ان کا مذاق اڑاتے ہیں، حالانکہ حقیقی نصیب والے یہی لوگ ہیں قیامت کے دن ان کے مرتبے دیکھ کر ان کافروں کی آنکھیں کھل جائیں گی اس وقت اپنی بدتری اور ان کی برتری دیکھ کر معاملہ اونچ نیچ سمجھ میں آ جائے گی۔ دنیا کی روزی جسے اللہ جتنی چاہے دیدے جسے چاہے بے حساب دے بلکہ جسے چاہے یہاں بھی دے اور پھر وہاں بھی دے حدیث شریف میں ہے اے ابن آدم تو میری راہ میں خرچ کر میں تجھے دیتا چلا جاؤں گا، [صحیح بخاری:5352] ‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا راہ اللہ میں دئیے جاؤ اور عرش والے سے تنگی کا خوف نہ کرو، [طبرانی کبیر:1020:صحیح] ‏

قرآن میں ہے آیت «وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ» [ 34۔ سبأ: 39 ] ‏ تم جو کچھ خرچ کرو اللہ اس کا بدلہ دے گا، صحیح حدیث میں ہے ہر صبح دو فرشتے اترتے ہیں ایک دعا کرتا ہے اے اللہ تیری راہ میں خرچ کرنے والے کو عزت فرما دوسرا کہتا ہے بخیل کے مال کو تباہ و برباد کر۔ [صحیح بخاری:1442] ‏

ایک اور حدیث میں ہے انسان کہتا رہتا ہے میرا مال میرا مال حالانکہ تیرا مال وہ ہے جسے تو نے کھایا وہ تو فنا ہو چکا اور جسے پہن لیا وہ بوسیدہ ہو گیا ہاں جو تو نے صدقہ میں دیا اسے تو نے باقی رکھ لیا اس کے سوا جو کچھ اسے تو تو دوسروں کے لیے چھوڑ کر یہاں سے چل دے گا، [صحیح مسلم:2958] ‏ مسند احمد کی حدیث میں ہے دنیا اس کا گھر ہے جس کا گھر نہ ہو، دنیا اس کا مال ہے جس کا مال نہ ہو دنیا کے لیے جمع وہ کرتا ہے جسے عقل نہ ہو۔ [مسند احمد:17/6:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر751