Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Baqarah 2:223

2:223
نساوكم حرث لكم فاتوا حرثكم انى شيتم وقدموا لانفسكم واتقوا الله واعلموا انكم ملاقوه وبشر المومنين ٢٢٣
نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌۭ لَّكُمْ فَأْتُوا۟ حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ ۖ وَقَدِّمُوا۟ لِأَنفُسِكُمْ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّكُم مُّلَـٰقُوهُ ۗ وَبَشِّرِ ٱلْمُؤْمِنِينَ ٢٢٣
نِسَآؤُكُمۡ
حَرۡثٞ
لَّكُمۡ
فَأۡتُواْ
حَرۡثَكُمۡ
أَنَّىٰ
شِئۡتُمۡۖ
وَقَدِّمُواْ
لِأَنفُسِكُمۡۚ
وَٱتَّقُواْ
ٱللَّهَ
وَٱعۡلَمُوٓاْ
أَنَّكُم
مُّلَٰقُوهُۗ
وَبَشِّرِ
ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
٢٢٣
妻はあなたがたの耕地である。だから意のままに耕地に赴け。だが自分の魂のために,(予め何か)善いことをしなさい。アッラーを畏れなさい。あなたがたは(来世で)かれに会うことを知りなさい。なお(これらの)吉報を信者たちに伝えなさい。

— Ryoichi Mita

Những người phụ nữ (vợ) của các ngươi là mảnh đất trồng của các ngươi. Cho nên, các ngươi hãy đến với mảnh đất trồng của các ngươi theo cách mà các ngươi thích; và các ngươi hãy (làm thiện tốt) cho bản thân mình. Các ngươi hãy kính sợ Allah và hãy biết rằng các ngươi sẽ phải trở về trình diện Ngài và Ngươi (Thiên Sứ Muhammad) hãy báo tin vui cho những người có đức tin.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 2:221 đến 2:223

مرد اور عورت جب نکاح کے ذریعہ ایک دوسرے کے ساتھی بنتے ہیں تو اس کا اصل مقصد شہوت رانی نہیں ہوتا بلکہ یہ اسی قسم کا ایک با مقصد تعلق ہے جو کسان اور کھیت کے درمیان ہوتا ہے۔ اس میں آدمی کو اتنا ہی سنجیدہ ہونا چاہيے جتنا کھیتی کا منصوبہ بنانے والا سنجیدہ ہوتاہے۔ اس سلسلہ میں چند باتوں کا لحاظ ضروری ہے۔

ایک یہ کہ جوڑے کے انتخاب میں سب سے زیادہ جس چیز کو دیکھا جائے وہ ایمان ہے۔ میاں بیوی کا تعلق بے حد نازک تعلق ہے۔ اس کے بہت سے نفسیاتی، خاندانی اور سماجی پہلو ہیں۔ اس قسم کا تعلق دو شخصوں کے درمیان اگر اعتقادی موافقت کے بغیر ہو تو بالآخر وہ دو میں سے کسی ایک کی بربادی کا باعث ہوگا — ایک مومن اپنے غیر مومن جوڑے سے اعتقادی مصالحت کرے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنے دین کو برباد کرلیا۔ اور اگر وہ مصالحت نہ کرے تو اس کے بعد دونوں میں جو کش مکش ہوگی اس کے نتیجے میں اس کا گھر برباد ہوجائے گا۔ دوسری چیز یہ کہ دو صنفوں کا یہ تعلق خدا کی بناوٹ کے مطابق اپنے فطری ڈھنگ پر قائم ہو۔ فطرت بھی خدا کا حکم ہے۔ قرآن کے ملفوظ احکام کی پابندی جس طرح ضروری ہے اسی طرح اس فطری نظام کی پابندی بھی ضروری ہے جو خدا نے تخلیقی طورپر ہمارے ليے بنا دیا ہے۔ تیسری چیز یہ کہ ہر مرحلہ میں آدمی کے اوپر اللہ کا خوف غالب رہے۔ وہ جو بھی رویہ اختیار کرے یہ سوچ کر کرے کہ بالآخر ا س کو رب العالمین کے یہاں جانا ہے جو کھلے اور چھپے ہر چیز سے باخبر ہے —’’اور اپنے ليے آگے بھیجو‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اپنی آخرت کے لیے عمل صالح بھیجو۔ یعنی جو کچھ کرو یہ سمجھ کر کرو کہ تمھارا کوئی کام صرف دنیوی کام نہیں ہے بلکہ ہر کام کا ایک اخر وی پہلو ہے۔ مرنے کے بعد تم اپنے اس اخروی پہلو سے دوچار ہونے والے ہو۔ تم کو اس معاملہ میں حد درجہ ہوشیار رہنا چاہيے کہ تمھارا عمل آخرت کے پیمانہ میں صالح عمل قرار پائے، نہ کہ غیر صالح عمل۔