Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Baqarah 2:261

2:261
مثل الذين ينفقون اموالهم في سبيل الله كمثل حبة انبتت سبع سنابل في كل سنبلة ماية حبة والله يضاعف لمن يشاء والله واسع عليم ٢٦١
مَّثَلُ ٱلَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَٰلَهُمْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِى كُلِّ سُنۢبُلَةٍۢ مِّا۟ئَةُ حَبَّةٍۢ ۗ وَٱللَّهُ يُضَـٰعِفُ لِمَن يَشَآءُ ۗ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌ ٢٦١
مَّثَلُ
ٱلَّذِينَ
يُنفِقُونَ
أَمۡوَٰلَهُمۡ
فِي
سَبِيلِ
ٱللَّهِ
كَمَثَلِ
حَبَّةٍ
أَنۢبَتَتۡ
سَبۡعَ
سَنَابِلَ
فِي
كُلِّ
سُنۢبُلَةٖ
مِّاْئَةُ
حَبَّةٖۗ
وَٱللَّهُ
يُضَٰعِفُ
لِمَن
يَشَآءُۚ
وَٱللَّهُ
وَٰسِعٌ
عَلِيمٌ
٢٦١
アッラーの道のために自分の所有するものを施す者を例えてみれば,ちょうど1粒が7穂を付け,1穂に百粒を付けるのと同じである。アッラーは御心に適う者に,倍加してくださる。アッラーは厚施にして全知であられる。

— Ryoichi Mita

Hình ảnh của những người chi dùng tài sản của họ cho con đường chính nghĩa của Allah giống như hình ảnh của một hạt giống trổ ra bảy nhánh bông, mỗi nhánh bông trổ ra một trăm hạt. Và Allah sẽ nhân lên thêm nữa cho những ai Ngài muốn bởi vì Allah là Đấng Quảng Đại, Bao La, Hằng Biết hết mọi việc.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 2:261 đến 2:264

ہر عمل جو آدمی کرتا ہے وہ گویا ایک بیج ہے جو آدمی ’’زمین‘‘ میں ڈالتا ہے۔ اگر اس کا عمل اس ليے تھا کہ لوگ اسے دیکھیں تو اس نے اپنا بیج دنیا کی زمین میں ڈالا تاکہ یہاں کی زندگی میں اپنے کيے کا پھل پاسکے۔ اور اگر اس کا عمل اس ليے تھا کہ اللہ اس کو ’’دیکھے‘‘ تو اس نے آخرت کی زمین میں اپنا بیج ڈالا جو اگلی دنیا میںاپنے پھول اور پھل کی بہاریں دکھائے۔ دنیا میں ایک دانہ سے ہزار دانے پیدا ہوتے ہیں۔ یہی حال آخرت کے کھیت میں دانہ ڈالنے کا بھی ہے۔

دنیا کے فائدہ یا دنیا کی شہرت وعزت کے لیے خرچ کرنے والا اسی دنیا میں اپنا معاوضہ لینا چاہتا ہے۔ ایسے آدمی کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ مگر جو شخص اللہ کے لیے خرچ کرے اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی پر احسان نہیں جتاتا، اس نے جب اللہ کے لیے خرچ کیا ہے تو انسان پر اس کا کیا احسان۔ اس کی رقم خرچ ہو کر جن لوگوں تک پہنچتی ہے ان کی طرف سے اس کو اچھا جواب نہ ملے تو وہ ناراضگی کا اظہار نہیں کرتا۔ اس کو تو اچھا جواب اللہ سے لینا ہے، پھر انسانوں سے ملنےیا نہ ملنے کا اسے کیا غم۔ اگر کسی سائل کو وہ نہیں دے سکتاتو وہ اس سے برُا کلمہ نہیں کہتا۔ بلکہ نرمی کے ساتھ معذرت کردیتاہے۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ وہ جو کچھ بول رہا ہے خدا کے سامنے بول رہا ہے۔ خدا کا خوف اس کو انسان کے سامنے اپني زبان كو كنٹرول كرنے پر مجبور کردیتاہے۔

پـتھر کی چٹان کے اوپر کچھ مٹی جم جائے تو بظاہر وہ مٹی دکھائی دے گی۔ مگر بارش کا جھونکا آتے ہی مٹی کی اوپری تہ بہہ جائے گی اور اندر سے خالی پـتھر نکل آئے گا۔ ایسا ہی حال اس انسان کا ہوتا ہے جو بس اوپری دین داری ليے ہوئے ہو۔ دین اس کے اندر تک داخل نہ ہوا ہو۔ ایسے آدمی سے اگر کوئی سائل بے ڈھنگے انداز سے سوال کردے یا کسی کی طرف سے کوئی ایسی بات سامنے آجائے جو اس کی اَنا پر ضرب لگانے والی ہو تو وہ بپھر کر انصاف کی حدوں کو توڑ دیتا ہے۔ ایسا ایک واقعہ ایک ایسا طوفان بن جاتا ہے جو اس کی اوپری ’’مٹی‘‘ کو بہا لے جاتا ہے اور پھر اس کے اندر کا انسان سامنے آجاتا ہے جس کو وہ دین کے ظاہری لبادہ کے پیچھے چھپائے ہوئے تھا— اللہ کے لیے عمل کرنا گویا دیکھے پر اَن دیکھے کو ترجیح دینا ہے جو اس بلند نظری کا ثبوت دے وہی وہ شخص ہے جس پر خدا کی چھپی ہوئی معرفت کے دروازے کھلتے ہیں۔