Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Baqarah 2:95

2:95
ولن يتمنوه ابدا بما قدمت ايديهم والله عليم بالظالمين ٩٥
وَلَن يَتَمَنَّوْهُ أَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِٱلظَّـٰلِمِينَ ٩٥
وَلَن
يَتَمَنَّوۡهُ
أَبَدَۢا
بِمَا
قَدَّمَتۡ
أَيۡدِيهِمۡۚ
وَٱللَّهُ
عَلِيمُۢ
بِٱلظَّٰلِمِينَ
٩٥
だがかれらは,その手が予め犯した(罪の)ために,決して死を望まないであろう。アッラーは,不義を行う者を熟知される。

— Ryoichi Mita

Nhưng chắc chắn họ sẽ không bao giờ dám cầu xin được chết đâu bởi họ hiểu rõ những gì họ đã làm; và Allah luôn tận tường mọi hành động của những kẻ làm điều sai quấy.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 2:94 đến 2:95

اس کے بعد قرآن کریم خود ہی اعلان کردیتا ہے کہ یہ لوگ ہرگز دعوت مباہلہ قبول نہ کریں گے ۔ اور کبھی موت کی طلب نہ کریں گے ۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ جھوٹے ہیں اور انہیں یہ ڈر تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ فریقین کی دعا قبول کرلیں تو وہ اس کی پکڑ میں آجائیں گے ۔ نیز وہ یہ بھی جانتے تھے کہ انہوں نے اس دنیا میں جو برے کام کئے ہیں ان کے نتیجے میں ، دارآخرت میں خود ان کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ اور اگر انہوں نے مباہلہ کیا ، تو نتیجہ یہ ہوگا کہ اپنے منہ مانگی موت کے نتیجے میں وہ دنیا سے بھی محروم ہوجائیں گے اور جو برے کام انہوں نے کئے ہیں اس کے نتیجے میں آخرت میں تو وہ محروم ہیں ہی ........ اس لئے قرآن کریم فیصلہ کن انداز میں کہتا ہے کہ ان سے یہ توقع ہرگز نہیں کی جاسکتی کہ وہ اس تحدی کو قبول کرلیں گے کیونکہ وہ حیات دنیوی کے لئے سب سے زیادہ حریص ہیں اور یہی حال تمام دوسرے مشرکین کا بھی ہے (بلکہ یہ اس معاملے میں ان سے بھی بڑھے ہوئے ہیں ) چناچہ فرماتے ہیں ؟