Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Furqan 25:10

25:10
تبارك الذي ان شاء جعل لك خيرا من ذالك جنات تجري من تحتها الانهار ويجعل لك قصورا ١٠
تَبَارَكَ ٱلَّذِىٓ إِن شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَيْرًۭا مِّن ذَٰلِكَ جَنَّـٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ وَيَجْعَل لَّكَ قُصُورًۢا ١٠
تَبَارَكَ
ٱلَّذِيٓ
إِن
شَآءَ
جَعَلَ
لَكَ
خَيۡرٗا
مِّن
ذَٰلِكَ
جَنَّٰتٖ
تَجۡرِي
مِن
تَحۡتِهَا
ٱلۡأَنۡهَٰرُ
وَيَجۡعَل
لَّكَ
قُصُورَۢا
١٠
かれが望まれるならば,それより優れたものを,あなたに与えることの出来る方。川が下を流れる楽園,そして宮殿をあなたに与える御方に祝福あれ。

— Ryoichi Mita

Thật hồng phúc thay cho Đấng mà nếu Ngài muốn Ngài sẽ làm ra cho Ngươi (Thiên Sứ Muhammad) những thứ còn tốt hơn những thứ đó. (Rồi đây Ngươi sẽ được ban cho) các ngôi vườn Thiên Đàng bên dưới có các dòng sông chảy và Ngài sẽ làm ra cho Ngươi các tòa lâu đài.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 25:9 đến 25:10

انظر کیف ضربوا لک الامثال (25 : 9) ” دیکھو ‘ یہ تمہارے بارے میں کیا حجتیں کرتے ہیں “۔

آپ ﷺ کو سحرزدہ لوگوں کے ساتھ مشابہ قرار دیتے ہیں ‘ کبھی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنی طرف سے باتیں بناتے ہیں ‘ کبھی کہتے ہیں کہ پرانے زمانے کی باتیں ہیں جو آپ لکھواتے ہیں۔ یہ سب گمراہی کی باتیں ہیں۔ اور سچائی سے دور کی باتیں ہیں۔ یہ سچائی کے تمام راستوں سے بےراہ ہوگئے ہیں۔ اور اب ان کے اندر ہدایت کی راہ پانے کی استطاعت ہی نہیں رہی۔

فلایستطیعون سبیلا (25 : 9) اب یہ بحث یوں ختم کی جاتی ہے کہ یہ لوگ جو تجاویز دیتے ہیں وہ احمقانہ ہیں۔ ان کے تصورات دنیا پرستی کے محدود دائرے میں محدود ہیں۔ یہ کنوئیں کے مینڈک کی طرح اپنی دنیا ہی میں مگن ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ رسالت ﷺ کے مقابلے میں چند ٹکٹوں کی قیمت زیادہ ہے لہٰذا رسول ﷺ کے پاس ٹکے ہونے چاہیں۔ اس پر ہدایت الہٰی کے بجائے خزانہ عامرہ نازل ہونا چاہیے تھا ‘ یا اس کے مقابلے میں ایک باغ اس کے پاس ہونا چاہیے تھا جس میں وہ صبح و شام کھاتا ۔ یہ تھی ان کی سوچ ‘ لیکن اگر اللہ چاہتا اور اس کی اسکیم یہ ہوتی تو وہ اپنے رسول ﷺ کو اس سے بھی زیادہ دیتا جس کا یہ کہتے ہیں۔

(تبرک الذی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قصورا (25 : 1) ” بڑا بابرکت ہے وہ جو اگر چاہے تو ان کی تجویز کردہ چیزوں سے بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر تم کو دے سکتا ہے۔ بہت سے باغ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور بڑے بڑے محل “۔ لیکن اللہ کی مشیت یہ تھی کہ آپ کو ایسے باغات و محلات سے بھی زیادہ قیمتی دولت دے۔ یعنی باغات اور محلات دینے والے کے ساتھ تعلق اور دوستی۔ یہ شعور کہ محمد اس کی نگرانی میں ہیں۔ اس کے قبضے میں ہیں اس کی ہدایت اور توفیق کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ اور آپ ﷺ اس مٹھاس کو ہر وقت چکھتے رہتے ہیں۔ یہ روحانی غذا آپ کو ہر وقت دی جاتی ہے اور اس کے مقابلے میں جسمانی غذا کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ دنیا کا ما ومنال خواہ کم ہو یا زیادہ ‘ اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ اے کاش کہ وہ اس فرق کو سمجھتے کہ آپ کو جو دولت دی گئی ہے وہ کس قدر قیمتی ہے۔ اور اس کے مقابلے میں دنیا کے باغ دراغ کچھ بھی نہیں۔

یہاں تک تو قرآن نے خدا اور رسول اللہ ﷺ پر ان کے اعتراضات کو نقل فرمایا ‘ اب بات ان کے فکر و نظر کے فساد کے ایک دوسرے میدان میں داخل ہوتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ ضلال بعید میں مبتلا ہیں اور یہ تو قیام قیامت کے منکر ہیں۔ یہ چونکہ قیامت کی جوابدہی کے منکر ہیں اس لیے یہ اس قسم کی غیر ذمہ دارانہ باتیں کرتے ہیں۔ ظلم کرتے ہیں افتراء باندھتے ہیں کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق انکو قیامت کی جوابدہی کا کوئی ڈر نہیں ہے۔ اگر ان کے دل میں اللہ کے سامنے حاضر ہونے اور حساب دینے کا ڈر ہوتا تو وہ یہ افتراء پر دازیاں ہر گز نہ کرتے۔ یہاں اب قیامت کے مناظر میں سے ایک ایسا منظر لایا جاتا ہے جو سخت سے سخت دل کو بھی ریزہ ریز کردیتا ہے۔ جسک و دیکھ کر پوری طرح بجھے ہوئے دلوں میں بھی آگ لگ جاتی ہے۔ اور وہ بھی اس دن کی ہولناکی سے کانپ اٹھتے ہیں۔ ان کافروں کے لیے یہ ہولناکی اور اہل ایمان کے لیے یہ حسن انجام۔