Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Furqan 25:19

25:19
فقد كذبوكم بما تقولون فما تستطيعون صرفا ولا نصرا ومن يظلم منكم نذقه عذابا كبيرا ١٩
فَقَدْ كَذَّبُوكُم بِمَا تَقُولُونَ فَمَا تَسْتَطِيعُونَ صَرْفًۭا وَلَا نَصْرًۭا ۚ وَمَن يَظْلِم مِّنكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًۭا كَبِيرًۭا ١٩
فَقَدۡ
كَذَّبُوكُم
بِمَا
تَقُولُونَ
فَمَا
تَسۡتَطِيعُونَ
صَرۡفٗا
وَلَا
نَصۡرٗاۚ
وَمَن
يَظۡلِم
مِّنكُمۡ
نُذِقۡهُ
عَذَابٗا
كَبِيرٗا
١٩
(主は仰せられよう。) 「今かれらは,あなたがたの言ったことを嘘である。と立証した。それであなたがたは(懲罰を )免れられず,また助けも(得られ)ない。われは,あなたがたの中,悪を行う者に,懲罰を味わせるであろう。

— Ryoichi Mita

Allah phán bảo (những kẻ thờ đa thần): “Quả thật, (những thần linh mà các ngươi thờ phượng ngoài TA) đã khẳng định các ngươi gian dối về những điều mà các ngươi nói. Cho nên, các ngươi không thể gở gạc cũng không được giúp đỡ.” Và người nào trong các ngươi làm điều sai quấy thì TA sẽ cho y nếm sự trừng phạt to lớn.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 25:17 đến 25:19

و یوم یحشرھم۔۔۔۔۔ نذقہ عذابا کبیرا

جن لوگوں کی مشرکین بندگی کرتے تھے بعض اوقات تو وہ بت ہوتے تھے ‘ کبھی وہ ملائکہ اور جن ہوتے تھے اور کبھی دوسرے معبود ہوتے تھے۔ جن کو اللہ خوب جانتا ہے ‘ لیکن اس کھلے میدان میں ان سے یہ سوال کرنا جواب طلب کرنا جب کہ سب کو اس مقصد کے لیے جمع کیا گیا ہوگا ‘ زیادہ تشہیر اور شرمندہ کرنے کے لیے ہوگا۔ تشہیر جرم اور شرمندہ کرنا بھہ دراصل ایک قسم کی سزا ہے اور جواب جو آ رہا ہے وہ ان نام نہاد الموں کی طرف سے اللہ کے سامنے مکمل طور پر جھکناثابت کرتا ہے۔ اب یہ اللہ قہار اور مالک الملک کے سامنے مطیع فرمان کھڑے ہیں۔ اور نہ صرف یہ کہ وہ اپنی الوہیت کا انکار کرتے ہیں بلکہ وہ اس بات سے بھی انکار کرتے ہیں کہ ان بیوقوفوں سے ان کی کوئی دوستی یا تعلق تھا۔ اس سے زیادہ مشرکین کے لیے اور شرمندگی کیا ہوگی کہ جن کو وہ الہٰ سمجھتے ہیں وہ ان کے اس تعلق سے بھی منکر ہوں گے۔

قالو اسبحنک۔۔۔۔۔ کانو اقوما بورا (25 : 18) ” وہ عرض کریں گے ” پاک ہے آپ کی ذلت ‘ ہماری تو یہ بھی مجال نہ تھی کہ آپ کے سوا کسی کو اپنا مولیٰ بنائیں۔ مگر آپ نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو خوب سامان زندگی دیا حتیٰ کہ یہ سبق بھول گئے اور شامت زدہ ہو کر رہے “۔ تو زندگی کا یہ مال ومتاع جو مسلسل ان لوگوں کو حاصل رہا ‘ جبکہ ان کو یہ معرفت بھی نہ تھی کہ یہ انعامات دینے والا بھی کوئی ہے اور نہ وہ دینے والے کا کوئی شکر ادا کرتے تھے تو اس غفلت نے ان کے دلوں سے ان انعامات کا احساس ہی دور کردیا۔ یہ لوگ سب کچھ بھول گئے۔ چناچہ ان کے دل اس طرح خشک اور غیر آباد ہوگئے جس طرح خشک سالی کے نتیجے میں زمین غیر آباد ہو کر بےآب وگیاہ ہوجاتی ہے۔ یہاں لفظ بوار استعمال ہوا ہے جو ہلاکت کے معنی میں آتا ہے۔ لیکن ہلاکت کے ساتھ اس کے مفہوم میں خشک سالی اور بےآب وگیاہ ہونا بھی داخل ہے یعنی دلوں کی خشکی اور زندگی کا خلا۔

چناچہ یہاں اس مقام پر انہیں توہین آمیز خطاب کے ذریعہ شرمسار کیا جاتا ہے :

فقد کذبو۔۔۔۔۔ صرفا و نانصرا (25 : 19) ” یوں جھٹلادیں گے وہ (تمہارے معبود) تمہاری ان باتوں کو جو آج تم کہہ رہے ہو ‘ پھر تم نہ اپنی شامت کو ٹال سکو گے نہ کہیں سے مدد پاسکو گے “۔ یعنی نہ اس مصیبت کا منہ کسی اور طرف موڑ سکو گے اور نہ کسی جانب سے تمہیں کوئی امداد مل سکے گی۔

یہ منظر تو آخرت کا چل رہا ہے اور حشر کا میدان ہے لیکن بیچ میں ایک جھلک دنیا کی بھی دکھا دی جاتی ہے۔ یہ مکذبین اب زمین پر اس دنیا ہی میں نظر آتے ہیں۔ اور ان سے کہا جاتا ہے۔

ومن یظلم۔۔۔۔۔ کبیرا (25 : 19) ” اور جو تم میں سے ظلم کرے اسے ہم سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے “۔ اور قرآن کریم کا ایک مخصوص اسلوب ہے کہ وہ دلوں کو اس وقت چھوتا ہے جب وہ قبولیت کے لیے تیار ہوتے ہیں اور قیامت کا خوفناک منظر دیکھ کر وہ بات ماننے کے لیے آمادہ ہوتے ہیں۔