Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Furqan 25:52

25:52
فلا تطع الكافرين وجاهدهم به جهادا كبيرا ٥٢
فَلَا تُطِعِ ٱلْكَـٰفِرِينَ وَجَـٰهِدْهُم بِهِۦ جِهَادًۭا كَبِيرًۭا ٥٢
فَلَا
تُطِعِ
ٱلۡكَٰفِرِينَ
وَجَٰهِدۡهُم
بِهِۦ
جِهَادٗا
كَبِيرٗا
٥٢
だから不信者に従ってはならない。かれらに対しこの(クルアーン)をもって大いに奮闘努力しなさい。

— Ryoichi Mita

Bởi thế, Ngươi (Thiên Sứ Muhammad) chớ nghe theo những kẻ vô đức tin mà hãy dùng Qur’an đấu tranh chống lại họ bằng một cuộc đấu tranh mạnh mẽ.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 25:51 đến 25:54
النبی کل عالم علیہ السلام ٭٭

اگر رب چاہتا تو ہر ہر بستی میں ایک ایک نبی بھیج دیتا۔ اس نے تمام دنیا کی طرف صرف ایک ہی نبی بھیجا ہے اور پھر اسے حکم دے دیا کہ قرآن کا وعظ سب کو سنا دے۔ جیسے فرمان ہے کہ میں اس قرآن سے تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے ہوشیار کر دوں اور ان تمام جماعتوں میں سے جو بھی کفر کرے، اس کے ٹھہرنے کی جگہ جہنم ہے۔ اور فرمان ہے کہ ” تو مکے والوں کو اور چاروں طرف کے لوگوں کو آگاہ کر دے۔ “ [6-الأنعام:92] ‏

اور آیت میں ہے کہ ” اے نبی! آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بن کر آیا ہوں۔ “ [7-الأعراف:158] ‏

بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: میں سرخ و سیاہ سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ [صحیح مسلم:3] ‏

بخاری و مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے رہے اور میں تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں۔ [صحیح بخاری:335] ‏

پھر فرمایا: کافروں کا کہنا نہ ماننا اور اس قرآن کے ساتھ ان سے بہت بڑا جہاد کرنا۔ جیسے ارشاد ہے «يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ» [9-التوبة:73] ‏ یعنی ” اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! کافروں سے اور منافقوں سے جہاد کرتے رہو۔

صفحہ نمبر6078

اسی رب نے پانی کو دو طرح کا کر دیا ہے، میٹھا اور کھاری۔ نہروں، چشموں اور کنوؤں کا پانی عموماً شیریں، صاف اور خوش ذائقہ ہوتا ہے۔ بعض ٹھہرے ہوئے سمندروں کا پانی کھاری اور بدمزہ ہوتا ہے۔

اللہ کی اس نعمت پر بھی شکر کرنا چاہیے کہ اس نے میٹھے پانی کی چاروں طرف ریل پیل کر دی تاکہ لوگوں کو نہانے دھونے اور اپنے کھیت اور باغات کو پانی دینے میں آسانی رہے۔ مشرقوں اور مغربوں میں محیط سمندر کھاری پانی کے اس نے بہا دیئے جو ٹھہرے ہوئے ہیں، ادھر ادھر بہتے نہیں لیکن موجیں مار رہے ہیں، تلاطم پیدا کر رہے ہیں، بعض میں مدوجزر ہے،۔ ہر مہینے کی ابتدائی تاریخوں میں تو ان میں زیادتی اور بہاؤ ہوتا ہے پھر چاند کے گھٹنے کے ساتھ وہ گھٹتا جاتا ہے یہاں تک آخر میں اپنی حالت پر آ جاتا ہے پھر جہاں چاند چڑھا، یہ بھی چڑھنے لگا۔ چودہ تاریخ تک برابر چاند کے ساتھ چڑھتا رہا، پھر اترنا شروع ہوا۔ ان تمام سمندروں کو اسی اللہ نے پیدا کیا ہے، وہ پوری اور زبردست قدرت والا ہے۔ کھاری اور گرم پانی گو پینے کے کام نہیں آتا لیکن ہواؤں کو صاف کر دیتا ہے۔ جس سے انسانی زندگی ہلاکت میں نہ پڑے۔ اس میں جو جانور مر جاتے ہیں، ان کی بدبو دنیا والوں کو ستا نہیں سکتی اور کھاری پانی کے سبب سے اس کی ہوا صحت بخش اور اس کا مردہ پاک، طیب ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب سمندر کے پانی کی نسبت سوال ہوا کہ کیا ہم اس سے وضو کر لیں؟ تو آپ نے فرمایا: اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے۔ [سنن ابوداود:83،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ مالک، شافعی رحمۃ اللہ علیہما اور اہل سنن رحمۃ اللہ علیہم نے اسے روایت کیا ہے اور اسناد بھی صحیح ہے۔

صفحہ نمبر6079

پھر اس کی قدرت دیکھو کہ محض اپنی طاقت سے اور اپنے حکم سے ایک دوسرے سے جدا رکھا ہے۔ نہ کھاری میٹھے میں مل سکے، نہ میٹھا کھاری میں مل سکے۔ جیسے فرمان ہے «مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ» [55-الرحمن:19-21] ‏ ” اس نے دونوں سمندر جاری کر دئیے ہیں کہ دونوں مل جائیں اور ان دونوں کے درمیان ایک حجاب قائم کر دیا ہے کہ حد سے نہ بڑھیں۔ پھر تم اپنے رب کی کس نعمت کے منکر ہو؟ “

اور آیت میں ہے: ” کون ہے وہ جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس میں جگہ جگہ دریا جاری کر دئیے، اس پر پہاڑ قائم کر دئیے اور سمندروں کے درمیان اوٹ کر دی۔ کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بات یہ ہے کہ ان مشرکوں کے اکثر لوگ بےعلم ہیں۔ “ [27-النمل:61] ‏

اس نے انسان کو ضعیف نطفے سے پیدا کیا ہے پھر ٹھیک ٹھاک اور برابر بنایا ہے۔ اور اچھی پیدائش میں پیدا کر کے پھر اسے مرد یا عورت بنایا۔ پھر اس کے لیے نسب کے رشتےدار بنا دئیے پھر کچھ مدت بعد سسرالی رشتے قائم کر دئیے۔ اتنے بڑے قادر اللہ کی قدرتیں تمہارے سامنے ہیں۔

صفحہ نمبر6080