Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Furqan 25:66

25:66
انها ساءت مستقرا ومقاما ٦٦
إِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّۭا وَمُقَامًۭا ٦٦
إِنَّهَا
سَآءَتۡ
مُسۡتَقَرّٗا
وَمُقَامٗا
٦٦
本当にそれは悪い住まいであり,悪い休み所です。」と言う者である。

— Ryoichi Mita

Quả thật Hỏa Ngục là một nơi cư ngụ và là một nơi nghỉ vô cùng tồi tệ.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 25:63 đến 25:67

’’چلنا‘‘ پوری شخصیت کی علامت ہے۔ جن لوگوں کے دل میں اللہ کا یقین اتر جائے وہ سراپا عجز وتواضع بن جاتے ہیں۔ خدا کا خوف ان سے بڑائی کا احساس چھین لیتاہے۔ ان کا چلنا پھرنا اور رہنا سہنا ایسا ہوجاتا ہے جس میں عبدیت کی روح پوری طرح سمائی ہوئی ہو۔

رحمن کے بندوں کا معاملہ اگر صرف اتنا ہی ہو تو کوئی بھی ان سے نہ الجھے۔ مگر خدا کی معرفت انھیں خدا کا داعی بھی بنا دیتی ہے۔ بس یہیںسے ان کا ٹکراؤ دوسروں سے شروع ہوجاتاہے۔ ان کا اعلان حق باطل پرستوں کے ليے ناقابل برداشت ہوجاتاہے اور وہ ان سے ٹکرانے کے ليے آجاتے ہیں۔ مگر یہاں بھی خدا کا خوف انھیں جوابی ٹکراؤ سے روک دیتاہے۔ وہ ان کے حق میں ہدایت کی دعا کرتے ہوئے ان سے الگ ہوجاتے ہیں۔

خدا کی معرفت ہی کا یہ نتیجہ بھی ہے کہ ان کی زندگی میںایک کبھی نہ ختم ہونے والی بے چینی شامل ہوجاتی ہے۔ وہ نہ صرف دن کے وقت خدا کو بے تابانہ پکارتے رہتے ہیں بلکہ ان کی راتوں کی تنہائیاں بھی خدا کی یاد میں بسر ہونے لگتی ہیں۔

اسی طرح خدا کا احساس انھیں حد درجہ محتاط بنا دیتاہے۔ وہ ذمہ دارانہ طورپر کماتے ہیں اور ذمہ دارانہ طورپر خرچ کرتے ہیں۔ خداکے آگے جواب دہی کا احساس انھیں اپنے آمد وخرچ کے معاملے میں معتدل اور محتاط بنا دیتاہے۔ حدیث میں آتاہے کہ یہ آدمی کی دانائی میں سے ہے کہ وہ اپنی معیشت میں بیچ کی راہ اختیار کرے (مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ رِفْقُهُ فِي مَعِيشَتِهِ) مسند احمد، حدیث نمبر 21695۔ رفقہ ای قصدہ۔