Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Furqan 25:75

25:75
اولايك يجزون الغرفة بما صبروا ويلقون فيها تحية وسلاما ٧٥
أُو۟لَـٰٓئِكَ يُجْزَوْنَ ٱلْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوا۟ وَيُلَقَّوْنَ فِيهَا تَحِيَّةًۭ وَسَلَـٰمًا ٧٥
أُوْلَٰٓئِكَ
يُجۡزَوۡنَ
ٱلۡغُرۡفَةَ
بِمَا
صَبَرُواْ
وَيُلَقَّوۡنَ
فِيهَا
تَحِيَّةٗ
وَسَلَٰمًا
٧٥
これらの者は,その耐え忍んだことにより高い階位の住まいをもって(楽園の中に)報われよう。またそこで歓迎と挨拶の言葉をもって迎えられよう。

— Ryoichi Mita

Những người đó sẽ được ban thưởng một nơi ở cao sang (Thiên Đàng) vì đã từng kiên nhẫn chịu đựng. Nơi đó, họ sẽ được đón chào tốt đẹp với lời chúc bằng an.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 25:75 đến 25:76

اولئک یجزون ……ومقاماً (76)

غرفہ کا مفہوم منزل بلند ہے ، جس سے جنت مراد ہے۔ یا یہ جنت کا کوئی خاص مقام ہوگا۔ جیسا کہ بالا خانہ عام افتادہ مکان کے مقابلے میں زیادہ پسندیدہ ہوتا ہے۔ ہر شخص مسلمانوں کو بالا خانوں میں بٹھاتا ہے اور یہ لوگ بھی چونکہ اللہ کے معزز اور مکرم بندے ہیں اور ان کے لئے عباد الرحمٰن کا ٹائیٹل استعمال ہوا ہے اور ان کی صفات بھی گنوائی گئی ہیں لہٰذا ان کا اس خاص مقام میں تحیہ اور مبارک و سلامت سے استقبال ہوگا۔ اس لئے کہ انہوں نے دنیا میں صبر کیا۔ اور ان صفات پر رہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عباد الرحمٰن کی ان صفات و علامات پر چلنا کارے دارد۔ بڑے صبر اور مصابرت کی ضرورت ہے۔ زندگی کی راہ پر دھوکہ دینے والی مرغوبات ہر طرف سے دامن کش رہتی ہیں۔ اس راہ پر گرنے اور پھسلنے کے مقامات جگہ جگہ موجود ہیں۔ زندگی کی اس طویل شاہراہ پر سیدھا چلنے کے لئے عزم و مصابرت کی ضرورت ہے۔ اس لئے اللہ نے یہاں بما صبروا (25 : 85) کا ذکر فرمایا۔

اور اس جہنم کے بالمقابل جس سے وہ بچنے کی دعا ہر وقت کرتے رہتے ہیں اور جو بہت ہی برا مقام ہے ، ان کے لئے ایک ایسا مقام ہوگا۔ یعنی جنت جو نہایت اچھا مقام ہوگا اور جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے۔

خلدین فیھا حسنت مستقرا و مقاماً (25 : 89) ” یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور مستقرد مقام کے طور پر وہ بہترین جگہ ہوگی۔ “ یہاں سے انہیں نکلنے کی کوئی ضرورت نہ ہوگی وہ نہایت سکون وقرار سے وہاں رہیں گے۔

……

عباد الرحمٰن کی تصویر کشی تو ہوچکی۔ بشریت کے نمک اور خلاصہ کی صفات کی تفصیلات تو دے دی گئیں۔ اب یہاں ان لوگوں کو یہ اعزاز دیا جاتا ہے کہ اگر اللہ کے یہ بندے نہ ہوں تو اللہ کے نزدیک پوری انسانیت پر کا ہ کے اہمیت بھی نہیں رکھتی۔ رہے مکذبین تو ان کے لئے تو عذاب جہنم کا حتمی فیصلہ ہوچکا ہے۔