Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Hadid 57:12

57:12
يوم ترى المومنين والمومنات يسعى نورهم بين ايديهم وبايمانهم بشراكم اليوم جنات تجري من تحتها الانهار خالدين فيها ذالك هو الفوز العظيم ١٢
يَوْمَ تَرَى ٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَـٰتِ يَسْعَىٰ نُورُهُم بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَـٰنِهِم بُشْرَىٰكُمُ ٱلْيَوْمَ جَنَّـٰتٌۭ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ خَـٰلِدِينَ فِيهَا ۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ ١٢
يَوۡمَ
تَرَى
ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ
يَسۡعَىٰ
نُورُهُم
بَيۡنَ
أَيۡدِيهِمۡ
وَبِأَيۡمَٰنِهِمۖ
بُشۡرَىٰكُمُ
ٱلۡيَوۡمَ
جَنَّٰتٞ
تَجۡرِي
مِن
تَحۡتِهَا
ٱلۡأَنۡهَٰرُ
خَٰلِدِينَ
فِيهَاۚ
ذَٰلِكَ
هُوَ
ٱلۡفَوۡزُ
ٱلۡعَظِيمُ
١٢
その日あなたは,信者の男と信者の女の,前の方や右側に,かれらの光が走るのを見るであろう。(かれらには言われよう。)「今日は,あなたがたへの吉報がある。川が下を流れる楽園のことである。永遠にその中に住むのである。それこそは,本当に偉大な幸福の成就である。」

— Ryoichi Mita

Vào Ngày mà ngươi sẽ thấy những người đàn ông có đức tin và những người phụ nữ có đức tin, ánh sáng của họ tiến tới trước mặt và bên phải của họ. (Họ được bảo): “Những điều tốt lành của các ngươi ngày hôm nay là những Ngôi Vườn Thiên Đàng bên dưới có các dòng sông chảy, nơi mà các ngươi sẽ sống vĩnh viễn.” Đấy là một thành tựu vĩ đại.”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 57:11 đến 57:12

من ذالذی .................................... المصیر (51) (75 : 11 تا 51)

” کون ہے جو اللہ کو قرض دے ؟ اچھا قرض ، تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس دے اور اس کے لئے بہترین اجر ہے۔ اس دن جب کہ تم مومن مردوں اور عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑرہا ہوگا۔ (ان سے کہا جائے گا کہ ) آج بشارت ہے تمہارے لیے جنتیں ہوں گی جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی ، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی ہے بڑی کامیابی۔ اس روز منافق مردوں اور عورتوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ مومنوں سے کہیں گے ذرا ہماری طرف دیکھو تاکہ ہم تمہارے نور سے کچھ فائدہ اٹھائیں۔ مگر ان سے کہا جائے گا ” پیچھے ہٹ جاؤ ، اپنا نور کہیں اور تلاش کرو۔ “ پھر ان کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا۔ اس دروازے کے اندر رحمت ہوگی اور باہر عذاب۔ وہ مومنوں سے پکار پکار کر کہیں گے ” کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے “ ؟ مومن جواب دیں گے۔” ہاں ، مگر تم نے اپنے آپ کو خود فتنے میں ڈالا ، موقع پرستی کی شک میں پڑے رہے ، اور جھوٹی توقعات تمہیں فریب دیتی رہیں ، یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آگیا ، اور آخر وقت تک وہ بڑادھوکے باز (شیطان) تمہیں اللہ کے معاملہ میں دھوکا دیتا رہا۔ لہٰذا آج نہ تم سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جنہوں نے کھلا کھلا کفر کیا تھا۔ تمہارا ٹھکانا جہنم ہے ، وہی تمہاری خبر گیری کرنے والی ہے اور یہ بدترین انجام ہے۔ “

یہ رب ذوالجلال کی طرف سے ایک زبردست پکار ، ایک زبردست موثر اشارہ اللہ اپنے فقیر اور محتاج بندوں سے کہتا ہے۔

من ذالذی ........................ حسنا (75 : 11) ” کون ہے جو اللہ کو قرض دے ؟ اچھا قرض “ تاکہ صرف یہ تصور کہ ایک مسلم فقیر ہے اور اللہ کی طرف ہر وقت محتاج ہے اور رب ذوالجلال اس سے قرض مانگ رہا ہے ، اس بات کے لئے کافی ہے کہ وہ اڑ کر اللہ کی راہ میں خرچ کرے ، کیونکہ لوگوں کی یہ عادت ہے کہ وہ نفع بخش کاروبار میں سرمایہ لگاتے ہیں۔ لوگ چونکہ فقیر ہیں اور اللہ کو دیا ہوا قرضہ محفوظ ہے ، اس کی واپسی یقینی ہے ، پھر یہ ان کے لئے ایک باعث عزت بات بھی ہے کہ وہ اللہ کو قرض دے رہے ہیں۔ عموماً لوگ نفع بخش کاروبار میں رقم لگاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ تو کئی گنا بڑھا کر اسے واپس کرتا ہے۔ اس لئے کوئی وجہ نہیں ہے کہ لوگ اس کاروبار میں سرمایہ نہ لگائیں۔

اللہ تعالیٰ انک صرف اچھے جذبات تک ہی نہیں لے جاتا بلکہ وعدہ فرماتا ہے کہ اس قرض حسن پر تمہیں کئی گنا اضافہ کرکے دے گا۔ بشرطیکہ وہ قرض حسن ہو اور صرف اللہ کے لئے دیا ہو اور کئی گنا اضافے کے ساتھ پھر اللہ کے ہاں مزید اجر بھی ملے گا۔

فیضعفہ .................... کریم (75 : 11) ” تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس دے اور اس کے لئے بہترین اجر ہے۔ “ اور اس اجر کا نقشہ قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر پیش کرکے بنایا جاتا ہے۔ قیامت کے دن یہ اجر دیا جائے گا اور یہ بہت ہی قابل قدر اجر ہوگا۔

یہ منظر قرآن کریم کے مناظر میں سے بالکل ایک نیا منظر ہے۔ اس منظر کی تصویر کشی اس طرح کی گئی ہے کہ اسے حرکت اور مکالمات سے بھر پور انداز میں بالکل ایک زندہ منظر بنا دیا گیا ہے۔ آج جب ہم قرآن کریم کو پڑھتے ہیں تو ہماری نظروں کے سامنے پوری تصویر آجاتی ہے۔ مومنین اور مومنات ہمیں سخت تاریکی میں چلتے نظر آتے ہیں لیکن ان کے سامنے اور ان کے دائیں جانب ہمیں ایک لطیف نور اور چمک نظر آتی ہے۔ یہ نور خود ان اہل ایمان کا نور ایمانی ہے اور یہ ان کے چہروں سے پھوٹ رہا ہے۔ ان مومنین اور مومنات کے اجسام سے یہ نور پھوٹ رہا ہے اور اس نور کی روشنی میں یہ اس دن کی تاریکی میں آگے بڑھ رہے ہیں ، یہ وہی نور ہے جو جاہلیت کے اندھیروں میں اللہ نے ان کو دیا تھا اور اس کی روشنی میں وہ چلتے تھے ، اب یہ نور ان کی ارواح کے ذریعہ ان کی خاکی جسم پر غالب آگیا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے اجسام کے خاکی اجزا سے یہ نور چمک رہا ہو کہ جدید سائنس کی تحقیقات بھی اسی طرف جاری ہیں کہ مادہ ایٹم سے بنا ہے اور ایٹم دراصل نور اور ” شعاعیں “ ہے ۔ یوں گویا یہ نور پھر حقیقی نور ہوگا۔

اب اس منظر میں مومنین اور مومنات کو مبارک سلامت دی جاتی ہے۔

بشرکم .................... العظیم (75 : 21) ” آج ہے خوش خبری تمہارے لیے جنتیں ہوں گی جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی ، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی ہے بڑی کامیابی۔

لیکن مبارک سلامت کے اس منظر پر ابھی یہ ختم نہیں ہے۔ ادھر سے منافقین اور منافقات کا گروہ بھی گرتا پڑتا چلا آرہا ہے۔ یہ حیران وپریشان اور کس مپرسی کی حالت میں ہے ، یہ لوگ مومنین اور مومنات کے ساتھ لپٹ جاتے ہیں اور کہتے ہیں۔