Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Hajj 22:22

22:22
كلما ارادوا ان يخرجوا منها من غم اعيدوا فيها وذوقوا عذاب الحريق ٢٢
كُلَّمَآ أَرَادُوٓا۟ أَن يَخْرُجُوا۟ مِنْهَا مِنْ غَمٍّ أُعِيدُوا۟ فِيهَا وَذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلْحَرِيقِ ٢٢
كُلَّمَآ
أَرَادُوٓاْ
أَن
يَخۡرُجُواْ
مِنۡهَا
مِنۡ
غَمٍّ
أُعِيدُواْ
فِيهَا
وَذُوقُواْ
عَذَابَ
ٱلۡحَرِيقِ
٢٢
苦しさのため,そこから出ようとする度に,その中に押し戻され,「火炙りの刑を味わえ。」(と言われよう)。

— Ryoichi Mita

Mỗi khi họ muốn lẩn trốn khỏi hình phạt đau đớn đó thì sẽ bị bắt trở lại, (và được bảo): “Các ngươi hãy nếm lấy hình phạt của sự thiêu đốt!”

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 22:19 đến 22:24

ھذن خصمن ……فیھا حریر (23)

یہ ایک عجیب ، خوفناک اور چیخ و پکار سے بھرپر منظر ہے۔ حرکت سے بھرپور ۔ قرآن کریم کا بہترین طرز تعبیر ذہن کے اندر یہ طویل تخیلاتی منظر اس طرح پیدا کردیتا ہے کہ اسکرین پر واضح نظر آتا ہے۔ یہ منظر بار بار دامن خیال کو پکڑتا ہے اور خیال اس سے دامن نہیں چھڑا سکتا۔

آگ کے لباس کاٹے جا رہے ہیں ، جدا جدا ہر شخص کے لئے۔ دوزخیوں کے سروں پر سخت گرم پانی ڈالا جا رہا ہے۔ پانی ڈالتے ہی ان کے چمڑے بلکہ جسم کے اندر کے حصے بھی گل سڑ جاتے ہیں۔ لوہے کے کوڑے ہیں اور آگ میں گرم ہو رہے ہیں ۔ عذاب سخت سے سخت ہو رہا ہے۔ حد برداشت سے بڑھ جاتا ہے ۔ لوگ گھبرا رہے ہیں ، ، دوڑتے ہیں اور جہنم سے نکلنے کی سعی لاحاصل کر رہے ہیں لیکن سختی سے ان کو پھر اندر دھکیل دیا جاتا ہے۔ سختی سے ان کو ملامت کی جاتی ہے۔

وذوقوا عذاب الحریق (22 : 22) ” چکھو جلنے کا مزہ “۔ ان تمام مناظر کو خیال بار بار دہراتا ہے۔ یہاں تک کہ بھاگنے کی کوشش اور سختی کے ساتھ وہ لوگوں کا جہنم میں وبال کردیا جانا ، یہی خیال ذہن میں دوڑتا ہے کہ اچانک ایک دوسرا منظر آجاتا ہے ، وہ ہے دو رفیقوں میں سے دوسرے فریق کا منظر۔ ایک فریق کی حالت تو ابھی دیکھ چکے۔ اب اسکرین پر اہل جنت کا نقشہ آتا ہے۔ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ ان کے لباس آگ سے نہیں بلکہ ریشم سے سئے جا رہے ہیں۔ اس لباس کے ساتھ ساتھ ان کے جسم کو خوبصورت بنانے کے لئے زیورات بھی ہیں۔ سوین کے اور موتیوں کے۔ پھر لباس پر لباس اور وہ شیریں کلام ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کے صراط مستقیم پر ہیں۔ نہ ان کی بات سخت ہے اور نہ ان کی راہ پر مشقت ہے۔ گویا شیریں کلامی اور حق گوئی اور راہ ربست پر ہونا جنت کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ یہ اطمینان ، یسر اور توفیق ربانی کی نعمت ہے۔