Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Hajj 22:30

22:30
ذالك ومن يعظم حرمات الله فهو خير له عند ربه واحلت لكم الانعام الا ما يتلى عليكم فاجتنبوا الرجس من الاوثان واجتنبوا قول الزور ٣٠
ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ حُرُمَـٰتِ ٱللَّهِ فَهُوَ خَيْرٌۭ لَّهُۥ عِندَ رَبِّهِۦ ۗ وَأُحِلَّتْ لَكُمُ ٱلْأَنْعَـٰمُ إِلَّا مَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ ۖ فَٱجْتَنِبُوا۟ ٱلرِّجْسَ مِنَ ٱلْأَوْثَـٰنِ وَٱجْتَنِبُوا۟ قَوْلَ ٱلزُّورِ ٣٠
ذَٰلِكَۖ
وَمَن
يُعَظِّمۡ
حُرُمَٰتِ
ٱللَّهِ
فَهُوَ
خَيۡرٞ
لَّهُۥ
عِندَ
رَبِّهِۦۗ
وَأُحِلَّتۡ
لَكُمُ
ٱلۡأَنۡعَٰمُ
إِلَّا
مَا
يُتۡلَىٰ
عَلَيۡكُمۡۖ
فَٱجۡتَنِبُواْ
ٱلرِّجۡسَ
مِنَ
ٱلۡأَوۡثَٰنِ
وَٱجۡتَنِبُواْ
قَوۡلَ
ٱلزُّورِ
٣٠
以上(が巡礼の定め)である。アッラーの神聖(な儀式)を順守する者は,主の御許では最も善い者である。それから家畜は,あなたがたに読み聞かされたものを除き,(巡礼中の食料と して)合法である。それで偶像の汚れから離れ,虚偽の言葉を避けなさい。

— Ryoichi Mita

Đó (là điều các ngươi được lệnh), người nào tôn trọng những giới cấm của Allah thì là điều tốt cho y ở nơi Thượng Đế của y. Ngài cho phép các ngươi ăn thịt của những con vật nuôi ngoại trừ những gì (cấm) đã được đọc ra cho các ngươi (trong Qur’an). Bởi thế, các ngươi hãy tránh sự ô uế của (việc thờ cúng) các bục tượng và các ngươi hãy tránh lời nói giả dối.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 22:30 đến 22:31

ذلک ومن ……مکان سحیق (31)

اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کو ہاتھ بھی نہ لگایا جائے۔ یہ اللہ کی ہاں بہت بڑی نیکی اور خیر ہے۔ انسانی شعور اور انسانیضمیر کی دنیا میں بھی خیر کثیر ہے۔ واقعی اور عملی زندگی میں بھی یہ خبر ہے ، کیونکہ جو ضمیر حرمتوں کا شعور رکھتے ہوئے بچنے کی کوشش کرے گا وہی پاک ہوگا۔ جس زندگی میں اللہ کی حرمتوں کا احترام ہوگا۔ وہی زندگی امن وامان اور سلامتی کی نعمت سے مالا مال ہو سکتی ہے اور اس میں کسی پر کوئی ظلم و زیادتی نہیں ہو سکتی۔ ایسی ہی زندگی میں امن کے مقامات اور اطمینان کے گھر مل سکتے ہیں۔

مشرکین بھی بعض جانوروں کا احترام کرتے تھے۔ مثلاً بحیرہ ، سائبہ ، وصیلہ اور حام۔ ان کے نزدیک یہ جانور محترم تھے اور ان کو ہاتھ لگانا بھی جرم تھا۔ لیکن یہ مشرکین کی خود ساختہ حرمتیں تھیں۔ اللہ کی طرف سے ان کے بارے میں کوئی حکم نہ تھا تو یہاں کہہ دیا کہ اللہ نے کھانے کے جانوروں میں سے جو حرام قرار دیتے ہیں ان کا ذکر ہو چا ہے مثلاً مردار ، خون ، خنزیر اور وہ جانور جو اللہ کے سوا کسی اور کی نذر ہو۔

واحلت لکم الانعام الا مایتلی علیکم (22 : 30) ” تمہارے لئے مویشی حلال کئے گئے ہیں ماسوائے ان چیزوں کے جو تمہیں بتائی جا چکی ہیں۔ “ یہ اس لئے کہ اللہ کے سوا کسی اور کی مقرر کردہ کوئی حرمت نہ ہو۔ اللہ کے سوا کسی کو حلال و حرام قرار دینے کی اجازت نہیں اور اللہ کی شریعت کے سوا کسی اور شریعت کے مطابق احکام جاری نہ ہوں۔

حلت اور حرمت کی بحث ہی کی مناسبت سے بتوں کی گندگی سے بچنے کی بھی تاکید کردی گئی۔ مشرکین بتوں پر جانور ذبح کرتے تھے حالانکہ یہ ناپاکی تھی۔ رجس اس ناپاکی کو کہتے ہیں جس کا تعلق انسان کے نفس ، ضمیر اور دماغ سے ہو ، شرک اسی قسم کی معنوی ناپاکی ہے۔ شرک قلب و ضمیر کو اسی طرح ناپاک کر دیات ہے جس طرح گندگی کپڑے کو ناپاک کردیتی ہے۔

پھر شرک اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے اور سفید جھوٹ ہے اس لئے اللہ تعالیٰ حکم دیتے ہیں کہ اس بڑے جھوٹ کے ساتھ ساتھ تمام جھوٹوں سے بچو۔

فاجتنبوا الرجس من الاوثان واجتنبوا قول الزور (22 : 30) ” بتوں کی گندگی سے بچو اور جھوٹی باتوں سے پرہیز کرو۔ “ قرآن مجید نے جھوٹ کو شرک کے ساتھ جوڑ کر اس کے گناہ کو اور بھیانک بنا دیا ہے۔ امام احمد روایت کرتے ہیں کہ قاتک اسدی نے حضور ت سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نما زپڑھی اور منہ پھیر کر کھڑے ہوگئے اور فرمایا۔

عدلت شھادۃ الزور الا شراک باللہ عزوجل ” اور جھوٹی شہادت کو شرک کے برابر کردیا گیا ہے۔ “ اور پھر یہ آیت تلاوت فرمائی۔

اللہ تعالیٰ کی خواہش یہ ہے کہ لوگ ہر قسم کے شرک کو چھوڑ دیں اور ہر قسم کے جھٹ کو چھوڑدیں اور خلاص عقیدہ توحیدہ پر جم جائیں۔

حنفآء اللہ غیر مشرکین بہ (22 : 31) ” یکسو ہو کر اللہ کے بندے ہو جائو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ “ اس کے بعد آیت میں ایک خوفناک منظر ایک مثال کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے کہ جو شخص توحید کے بلند افق سے گرا تو اس کا حال کیا ہوتا ہے۔ وہ شرک کی پستیوں میں جا گرتا ہے اور وہ اس طرح ختم ہوجاتا ہے کہ اس کا نام و نشان ہی نہیں رہتا۔ گویا وہ تھا ہی نہیں۔

ومن یشرک باللہ فکانما خرمن السمآء فتخطفہ الطیر اوتھوی بہ الریح فی مکان سحیق (22 : 31) ” اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے تو گویا وہ آسمان سے گر گیا۔ اب یا تو اسے پرندے اچک لے جائیں گے یا ہوا اسے ایسی جگہ لے جا کر پھینک دے گی جہاں اس کے چیتھڑے اڑ جائیں گے۔ “

یہ منظر ایسے شخص کا ہے جو بہت ہی بلند جگہ سے گر جائے جیسا کہ آسمان سے گر کر وہ ریزہ ریزہ ہوجائے اور اسے پرندے اچک لے جائیں یا ہوا اسے نظروں سے دور پھینک دے۔ یا ہوا اسے ایسی جگہ پھینک دے ایسے گڑھے میں جہاں اسے کوئی قرار نصیب نہ ہو۔ یعنی اس منظر میں تمام مراحل بڑی تیزی سے سرانجام پاتے ہیں۔ سخت تیزی اور پھر اقدامات لگاتار ہیں اور ہر مرحلے کے … کا استعمال ہے۔ جو ترتیب واقعات بغیر فاصلہ وقت پر دلالت کرتی ہے یعنی یہ شخص بڑی تیزی سے منظر سے غائب ہوتا ہے۔ یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز ہے تصویر کشی کا۔

پھر جس طرح قرآن کریم نے شرک کرنے والے کی تصویر کشی کی ہے فی الواقعہ بھی اس کی حالت کچھ ایسی ہی ہوتی ہے کیونکہ وہ توحید اور ایمان کے بلند مقام سے گر جاتا ہے اور اس کی شخصیت منتشر ہوجاتی ہے کیونکہ اس کیپ اس وہ مضبوط اساس یعنی عقیدہ توحید ہی نہ رہا جس پر وہ کھڑا ہو سکے۔ اب اس کے لئے کوئی جائے قرار ہی باقی نہیں ہے۔ پرندے اس کو اچک لیں گے یعنی خواہشات نفسانیہ اور ادہام و خرافات ہر طرف سے اسے اپنی طرف کھینچیں گے۔ چونکہ اس کے ہاتھ میں مضبوط رسی نہ ہوگی اس لئے وہ ہر طرف کھینچتا چلا جائے گا۔ کبھی ایک طرف گرے گا اور کبھی دوسری طرف کیونکہ اسکے پائوں کے نیچے مضبوط بنیاد نہ ہوگی۔

اب بات آگے بڑھتی ہے۔ حکم دیا جاتا ہے کہ اللہ کی حرمتوں کا احترام کرو اور ان سے تعرض نہ کرو۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ کے شعائر کی تعظیم کر ، شعائر لالہ کیا ہیں۔ وہ جانور جو حج کے موقع پر ذبح ہوں گے ، ان کی تعظیم میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ موٹے تازے ہوں اور قیمتی ہوں۔