Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Hajj 22:39

22:39
اذن للذين يقاتلون بانهم ظلموا وان الله على نصرهم لقدير ٣٩
أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَـٰتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا۟ ۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ ٣٩
أُذِنَ
لِلَّذِينَ
يُقَٰتَلُونَ
بِأَنَّهُمۡ
ظُلِمُواْۚ
وَإِنَّ
ٱللَّهَ
عَلَىٰ
نَصۡرِهِمۡ
لَقَدِيرٌ
٣٩
戦いをし向ける者に対し(戦闘を)許される。それはかれらが悪を行うためである。アッラーは,かれら(信者)を力強く援助なされる。

— Ryoichi Mita

Ngài (Allah) cho phép những người (có đức tin) bị (những kẻ đa thần) áp bức được quyền chiến đấu đánh trả lại. Quả thật, Allah toàn năng trong việc trợ giúp họ.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 22:38 đến 22:40

اللہ کا کوئی بندہ یا کوئی گروہ اپنے آپ کو اللہ کے راستے پر ڈالے تو وہ اس دنیا میں تنہا نہیں ہوتا۔ غافل اور سرکش لوگ جب اس کو اپنے ظلم کا نشانہ بنائیں تو خدا ظالموں کے مقابلہ میں ان کی جانب کھڑاہوجاتا ہے۔ خدا ابتداء ً اپنا نام لینے والوں کے اخلاص کا امتحان لیتاہے۔ مگر جو لوگ امتحان میں پڑ کر اپنا مخلص ہونا ثابت کردیں خدا ضرور ان کی مدد پر آجاتاہے۔ اور ان کے ليے ایسے حالات پیدا کرتا ہے کہ وہ تمام رکاوٹوں پر قابو پاتے ہوئے حق پر کار بند رہ سکیں۔

اہل ایمان کا اصل اقدام صرف دعوت ہے۔ وہ دعوت سے آغاز کرتے ہیں اور برابر دعوت ہی پر قائم رہتے ہیں۔ وہ بوقت ضرورت کبھی جنگ بھی کرتے ہیں مگر ان کی جنگ ہمیشہ دفاع کے ليے ہوتی ہے، نہ کہ جارحیت کے ليے۔

ایک گروہ اگر زیادہ مدت تک اقتدار پر رہے تو اس کے اندر سرکشی اور گھمنڈ پیدا ہوجاتا ہے۔ اس ليے خدا نے اس دنیا میں ’’دفع‘‘ کا قانون مقرر کیا ہے۔ وہ بار بار ایک گروہ کے ذریعے دوسرے گروہ کواقتدار کے مقام سے ہٹاتا ہے۔ اس طرح تاریخ میں سیاسی توازن قائم رہتا ہے۔ اگر خدا ایسا نہ کرے تو لوگوں کی سرکشی یہاں تک بڑھ جائے کہ عبادت خانے جیسے مقدس ادارے بھی ان کی دست بُرد سے محفوظ نہ رہیں۔

اس دفع کی ایک صورت یہ ہے کہ کسی گروہ کے اقتدار کو سرے سے ختم کردیا جائے۔ اس کی ایک مثال موجودہ زمانہ میں برطانیہ عظمیٰ کی ہے جس کو وطنی آزادی کی تحریکوں کے ذریعے ختم کیا گیا۔ دوسرا طریقہ وہ ہے جس کی مثال روس اور امریکا کی شکل میں نظر آتا ہے۔ یعنی ایک کے ذریعے دوسرے پر روک لگانا۔ اور اس طرح بین اقوامی سیاست میں توازن قائم رکھنا۔