Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Hajj 22:51

22:51
والذين سعوا في اياتنا معاجزين اولايك اصحاب الجحيم ٥١
وَٱلَّذِينَ سَعَوْا۟ فِىٓ ءَايَـٰتِنَا مُعَـٰجِزِينَ أُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَـٰبُ ٱلْجَحِيمِ ٥١
وَٱلَّذِينَ
سَعَوۡاْ
فِيٓ
ءَايَٰتِنَا
مُعَٰجِزِينَ
أُوْلَٰٓئِكَ
أَصۡحَٰبُ
ٱلۡجَحِيمِ
٥١
だがわが印を虚しくするように努める者は業火の仲間である。

— Ryoichi Mita

Ngược lại, đối với những ai tìm mọi cách chối bỏ những Lời Mặc Khải của TA thì họ sẽ làm bạn với Hỏa Ngục.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 22:49 đến 22:51

قل یایھا ……الجحیم (15)

یہاں قرآن مجید رسول اللہ ﷺ کے فریضے کو صرف خبردار کرنے تک محدود کردیتا ہے۔

انما انا لکم نذیر مبین (22 : 93) ” میں تو صرف وہ شخص ہوں جو وقت سے پہلے خبردار کردینے والا ہو۔ “ کیونکہ حالات ایسے تھے کہ لوگ تکذیب کر رہے تھے۔ مذاق کر رہے تھے اور یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ جس عذاب سے آپ ڈراتے ہیں اسے جلدی ہی لے آئیں ! اس لئے بتایا گیا کہ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں اور جو لوگ میری بات کو مان لیں گے اور پھر ایمان کے تقاضے بھی پورے کریں یعنی وعملوا الصلحت (22 : 05) ” نیک عمل کریں “ تو ان کی جزاء یہ ہوگی کہ اللہ ان کے سابقہ گناہ معاف کر دے گا اور رزق کریم (22 : 05) رزق کریم ” عزت کی روزی۔ “ یعنی ان کے رزق کا ایسا ذریعہ ہوگا جو باعزت ہوگا اور ذریعہ بھی صاف ہوگا۔

رہے وہ لوگ جو اللہ کی آیات کو لوگوں کے دلوں تک پہنچنے سے روکتے ہیں اور عوام کو ان پر عمل پیرا ہونے سے بھی روکتے ہیں۔ اللہ کی آیات سے مراد سچائی کے دلائل اور اللہ کی شریعت ہے ، تو ایسے لوگوں کو اللہ نے جہنم کا مالک بنا دیا ہے۔ ابھی ملکیت اللہ نے ان کو دی ہے۔ یعنی اہل ایمان کے لئے تو رزق کریم ہے اور ان کے لئے جہنم کے مالکانہ حقوق ہیں۔

اللہ تعالیٰ دعوت اسلامی کو جھٹلانے والوں کی تکذیب سے بچاتے ہیں اور اس کی راہ میں روڑے اٹکانے والوں کی رکاوٹوں کو دور کرتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ دعوت اسلامی کو شیطان کی سازشوں سے بھی بچاتے ہیں۔ رسول بہرحال بشر ہوتے ہیں اور انسانوں کی کچھ آرزوئیں ہوتی ہیں۔ شیطان دعوت اسلامی کے حاملین تک ان آرزئوں اور خواہشات کی راہ سے پہنچتا ہے۔ رسول اگرچہ معصوم ہوتے ہیں لیکن ان کے دلوں میں چونکہ یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کی دعوت جلدی پھیلے ، اس کو کامیابی حاصل ہو ، اس راہ میں جو رکاوٹیں ہیں وہ دور ہوں ، شیطان ایک داعی کی ان معصومانہ خواہشات کی راہ سے حملہ آور ہوتا ہے اور دعوت کو اس کے اصول اور اس کی اقدار و روایات سے ہاٹنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ بھی اپنے رسولوں کے کام پر نظر رکھے ہوئے ہوتا ہے اس لئے وہ ان شیطانی چالوں کو باطل کردیتا ہے ، رسولوں کو بتا دیتا ہے کہ دعوت اسلامی کے اصول یہ ہیں ، اس کے پیمانے یہ ہیں۔ اس طرح اللہ دعوت کے دلائل کو محکم کردیتا ہے اور دعوت کے سلسلے میں تمام شبہات کو دور کردیتا ہے اور اس کی قدریں اور ذرائع متعین کردیئے جاتے ہیں۔