Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Hajj 22:66

22:66
وهو الذي احياكم ثم يميتكم ثم يحييكم ان الانسان لكفور ٦٦
وَهُوَ ٱلَّذِىٓ أَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ۗ إِنَّ ٱلْإِنسَـٰنَ لَكَفُورٌۭ ٦٦
وَهُوَ
ٱلَّذِيٓ
أَحۡيَاكُمۡ
ثُمَّ
يُمِيتُكُمۡ
ثُمَّ
يُحۡيِيكُمۡۗ
إِنَّ
ٱلۡإِنسَٰنَ
لَكَفُورٞ
٦٦
かれこそはあなたがたに生を授け,間もなく死を与え,それからまた甦らせられる方である。本当に人間は恩を忘れる。

— Ryoichi Mita

Và Ngài là Đấng ban cho các ngươi sự sống rồi làm cho các ngươi chết rồi sau đó làm cho các ngươi sống trở lại một lần nữa. Tuy nhiên, con người thực sự là những kẻ vong ân.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

وھو ……لکفور (66)

انسان کے ڈھانچے میں زندگی ڈالنا یعنی پہلے انسان ڈھانچے میں تو ایک عظیم معجزہ ہے ، اور رات اور دن جن چیزوں میں اللہ تعالیٰ زندگی ڈالتا ہے اس سے اس معجزے کی تجدید ہوتی رہتی ہے۔ یہ ” حیات “ کیا چیز ہے۔ ابھی تک یہ امور غبیبہ سے ہے اور عقل اس کے بارے میں حیراں ہے۔ اس میں بہرحال تامل و تدبر اور سائنسی تحقیق کے لئے بڑی گنجائش ہے۔

پھر موت بھی ایک دوسرا معجزہ ہے کہ انسان اس کی حقیقت سے آج تک عاجز ہے۔ موت نہایت ہی مختصر ٹائم میں واقع ہوجاتی ہے۔ لیکن زندگی اور موت کے آثار میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ انسان کے لئی اس میں غور و فکر کے وسیع امکانات ہیں۔

اب تیسرا مرحلہ کہ موت کے بعد زنگدی کیسے ہوگی۔ یہ بھی اللہ کے پوشیدہ علوم میں سے ایک غیب ہے۔ لیکن اس پر دلیل بہت آسان ہے کہ جب ایک چیز کو پہلے پیدا کردیا گیا ، تو دوسری بار اس کی پیدائش میں کیا مشکلات ہو سکتی ہیں۔ اس میں بھیانسان غو رو فکر کرسکتا ہے۔ لیکن انسان کی حالت یہ ہے کہ وہ غور و فکر ان موضوعات پر نہیں کرتا اور اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا۔

ان الانسان لکفور (22 : 66) ” بیشک انسان ناشکرا ہے۔ “ بڑا منکر حق ہے۔ قرآن مجید نے یہ تمام دلائل اس موضوع کے گرد پیش کئے ہیں کہ جن لوگوں پر ظلم ہوگا ، اللہ ان کی مدد رکے گا اور لوگوں کو چاہئے کہ وہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے خلاف ہونے والی جارحیت کا جواب دیں۔ یہ طرز استدلال قرآن کریم کے اس اسلوب کے مطابق ہے کہ قرآن اس کائنات کے قوانین فطرت اور مظاہر قدرت کو دلوں میں ولولہ پیدا کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے کیونکہ نظام اسلامی کے اندر موجود قوانین عدل کو پوری کائنات کے اندر موجود قوانین فطرت کی تائید حاصل ہے۔

……

اس کائنات کے مظاہر فطرت اور قوانین قدرت کے بیان کے اس فیصلہ کن موڑ پر پہنچ کر اب قرآن مجید نبی ﷺ کو ہدایت کرتا ہے کہ آپ مشرکین کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنی راہ پر چلیں۔ مشرکین کے نزاع اور جدال کی پرواہ نہ کریں۔ اللہ مشرکین کو یہ طاقت نہیں دیتا کہ وہ آپ کو اپنی راہ سے روک سکیں۔ یہ راہ آپ کے لئے اللہ نے چنی ہے اور اس راہ میں آپ صرف دعوت ہپنچانے تک محدود رہیں۔ اصل فیصلہ تو اللہ خود قیامت میں کرے گا۔