Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Hajj 22:67

22:67
لكل امة جعلنا منسكا هم ناسكوه فلا ينازعنك في الامر وادع الى ربك انك لعلى هدى مستقيم ٦٧
لِّكُلِّ أُمَّةٍۢ جَعَلْنَا مَنسَكًا هُمْ نَاسِكُوهُ ۖ فَلَا يُنَـٰزِعُنَّكَ فِى ٱلْأَمْرِ ۚ وَٱدْعُ إِلَىٰ رَبِّكَ ۖ إِنَّكَ لَعَلَىٰ هُدًۭى مُّسْتَقِيمٍۢ ٦٧
لِّكُلِّ
أُمَّةٖ
جَعَلۡنَا
مَنسَكًا
هُمۡ
نَاسِكُوهُۖ
فَلَا
يُنَٰزِعُنَّكَ
فِي
ٱلۡأَمۡرِۚ
وَٱدۡعُ
إِلَىٰ
رَبِّكَۖ
إِنَّكَ
لَعَلَىٰ
هُدٗى
مُّسۡتَقِيمٖ
٦٧
われは凡てのウンマに守られるべき儀式を定めた。それでこれに関し,かれらにあなたと論争させてはならない。あなたの主に(かれらを)招きなさい。本当にあなたは,正しい導きの上にいる。

— Ryoichi Mita

TA đã quy định cho mỗi cộng đồng một nghi thức thờ phượng để họ theo đó mà thực hiện. Cho nên, Ngươi (Thiên Sứ Muhammad) chớ để cho họ (những kẻ đa thần) tranh luận với Ngươi trong sự việc này. Tuy nhiên, Ngươi hãy kêu gọi họ đến với Thượng Đế của Ngươi bởi Ngươi thực sự đang ở trên Chính Đạo.

— Ruwwad Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith
Bạn đang đọc phần chú giải Kinh Qur'an cho nhóm các câu này. 22:67 đến 22:69

لکل امۃ جعلنا ……اللہ یسیر (96)

ہر قوم اور ہر امت کا ایک منہاج فکر ، منہاج عقیدہ اور ایک منہاج عمل اور ایک نظام زندگی ہوتا ہے۔ یہ نظام ان قوانین کے تابع ہوتا ہے جو اللہ نے انسانوں کے اندر جاری کئے ہیں جن کے مطابق انسان ماحول سے متاثر ہوتا ہے اور بعض چیزوں کو قبول کرلیتا ہے۔ یہ قوانین تخلیقی قوانین ہیں اور اللہ نے پیدائش کے وقت سے انسان کے اندر ان کا داعیہ رکھا ہے۔ جو امت دل کھول کر ان قوانین فطرت کو سمجھتی ہے اور ان کے مطابق اس کائنات اور نفس انسانی کے اندر دلائل ہدایت تلاش کرتی ہے ، وہ امت ہدایت یافتہ امت ہے کیونکہ وہ اس کائنات سے وہ قوانین دریافت کرلیتی ہے جس کے مطابق وہ اللہ کی معرفت اور اس کی اطاعت کے مقام تک پہنچ جاتی ہے۔ جو امت ان قوانین فطرت اور قوانین نفس سے آنکھیں بند کرلیتی ہے اور اسے ان میں خدا تک پہنچنے کی راہ نظر نہیں آتی ، وہ امت امت ضلالہ ہے اور اس نے خود اعراض کیا ہے اور سرکشی کی راہ اپنائی ہے۔

اس طرح اللہ نے ہر امت کے لئے کچھ مناسک رکھے ہیں ، جن پر وہ عمل کرتی ہے ، ایک مناج رکھا ہے جس پر وہ چلتی ہے ۔ لہٰذا مشرکین کے ساتھ مجادلہ میں اب وقت ضائع نہ کیا جائے ، کیونکہ وہ خود اپنے آپ کو راہ ہدایت اختیار کرنے سے روک رہے ہیں۔ وہ مناج ضلالت میں دور تک چلے گئے ہیں لہٰذا اللہ بھی یہ نہیں چاہتے کہ ان لوگوں کو اسلام کے خلاف مجادلے اور مباحثے کا موقع ملے۔ وہ تو چاہتے ہی یہ ہیں ، اے پیغمبر آپ اپنی راہ پر آگے بڑھیں۔ آپ کی راہ سیدھی ہے اور نظام مستقیم ہے۔

وادع الی ربک انک لعلی ھدی مستقیم (22 : 86) ” تم اپنے رب کی طرف دعوت دو ، یقینا تم سیدھے راستے پر ہو۔ “ آپ اپنے منہاج پر مطمئن ہوجائیں اور استقامت کے ساتھ اس پر گامزن رہیں۔ اگر کوئی آپ سے مجادلہ کرے تو بات مختصر کریں اور جہاد کا وقت آیات کلامی پر بحثوں میں ضائع نہ کریں۔

وان جدلوک فقل اللہ اعلم بما تعملون (22 ، 86) ” اگر وہ تم سے جھگڑیں تو کہہ دو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو ، اللہ کو خوب معلوم ہے۔ “ بحث و مباحثہ تب فائدہ مند ہوتا ہے کہ مخاطب ماننے کے لئے تیار ہو ، اور وہ حقیقت معلوم کرنا چاہتا ہو۔ ایسے افراد کے ساتھ مباحثہ مفید نہیں ہوتا جو اپنی بات پر مصر ہوں اور وہ اس کائنات میں پائے جاین الے تمام دلائل کو جو انفس و آفاق میں موجود ہیں اور قرآن ان کی طرف بار بار متوجہ کرتا ہے ، یکسر رو کر کے مکابرہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اللہ کے حوالے کر دو ، یہ اللہ ہی ہے جو تمام امتوں کے طریقوں کا فیصلہ قیامت میں کرے گا۔

اللہ یحکم بینکم یوم القیمۃ فیما کنتم فیہ تختلفون (22 : 96) ” اللہ قیامت کے روز تمہارے درمیان سب باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔ “ اللہ وہ جج ہے جس کے فیصلے پر کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ قیامت کے فیصلے کے لخاف تو کوئی اپیل نہ ہوگی۔ یہ تو سپریم فیصلہ ہوگا۔

اللہ علم کامل کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔ اس کی کوئی سبب یا کوئی دلیل جھوٹ نہیں ہو سکتی۔ عمل و شعور میں سے کوئی بات اس سے مخفی نہیں رہ سکتی۔ وہ تو آسمانوں و زمین میں سب کچھ جانتا ہے اس میں لوگوں کے اعمال اور نیات سب شامل ہیں۔