Đăng nhập
Đăng nhập
Đăng nhập
Chọn ngôn ngữ

Tafsir: Al-Haqqah 69:16

69:16
وانشقت السماء فهي يوميذ واهية ١٦
وَٱنشَقَّتِ ٱلسَّمَآءُ فَهِىَ يَوْمَئِذٍۢ وَاهِيَةٌۭ ١٦
وَٱنشَقَّتِ
ٱلسَّمَآءُ
فَهِيَ
يَوۡمَئِذٖ
وَاهِيَةٞ
١٦
また大空は千々に裂ける。天が脆く弱い日であろう。

— Ryoichi Mita

(Vào Ngày đó) bầu trời sẽ chẻ ra (và các Thiên Thần đi xuống), vì vào Ngày Đó nó sẽ mỏng manh.

— Rowwad Translation Center

Tafsirs
Các lớp
Bài học
Suy ngẫm
Câu trả lời
Qiraat
Hadith

وانشقت ................ واھیة (96 : 61) ” اس دن آسمان پھٹے گا اور اس کی بندش ڈھیلی پڑجائے گی “۔ اور ہمیں معلوم نہیں ہے کہ اس آسمان سے کون سا آسمان مراد ہے۔ جس کے شق کا یہاں ذکر ہے۔ لیکن یہ آیات اور دوسری آیات اشارہ اس طرح کررہی ہیں کہ قیامت کے دن ہولناک فلکی تغیرات اور تضادات ہوں گے ۔ مقصد یہ ہے کہ کر ات فلکی کی چولیں کھل جائیں گی اور جس چیزنے اس نظام کو ایک منظم طریقے سے ٹکارکھا ہے ، اس کا نظم کھل جائے گا۔ اور جب یہ نظام کھل گیا تو اس کا انتشار دیدنی ہوگا۔ اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ آج کل علمائے فلک نے آخر کار موجودنظام کے خاتمے کی جو صورت اپنے مشاہدات سے تجویز کی ہے وہ بعینہ وہی ہے ، جو قرآن تجویز کرتا ہے۔ حالانکہ انہوں نے یہ اندازے محض سائنسی مشاہدات سے لگائے ہیں۔ انہوں نے بہرحال اس کائنات کے بارے میں بہت قلیل مشاہدہ کیا ہے اور اس قلیل مشاہدے پر یہ مفروضے قائم کیے ہیں۔

لیکن ہم مومنین وہ مفروضے ان قرآنی آیات کے اندر نہایت مفصل انداز میں مشاہدہ کرتے ہیں۔ یہ نہایت مجمل آیات ہیں اور یہ متعین واقعات نہیں بلکہ اصولی اور کلی واقعات بیان کرتی ہیں۔ ہم بس صرف ان اصولی واقعات پر اکتفا کرتے ہیں ، جو قرآن نے بیان کیے۔ یہ ہمارے لئے سچی خبریں ہیں۔ کیونکہ یہ آیات اس ذات نے بیان کی ہیں جس نے قرآن بھی نازل کیا ہے اور کائنات کو بھی بنایا ہے۔ اور جو اپنی مخلوقات کو ہمارے محدود مشاہدات سے بڑھ کر بہت ہی اچھی طرح جانتا ہے۔ کیونکہ اللہ کی کائنات میں ، یہ زمین اور یہ پہاڑ اور زمین اور سورج کے ساتھ تمام کہکشاں اور ستارے ایسے ہی ہیں جیسے زمین کے اوپر غبار کے چھوٹے چھوٹے ذرات اڑتے ہیں۔ لہٰذا ہم میں سے ایک انسان جس طرح دو ذرات کو اٹھا کر پھینک سکتا ہے ، اللہ کے نزدیک زمین کو اٹھا کر پھینکنا ایسا ہی ہے تو قیامت میں جب آسمانوں کی بندش کھلے گی تو زمین و آسمان ذرات کی طرح اڑتے پھریں گے اور یہ باتیں بھی قرآن کی زندہ آیات سے معلوم ہوتی ہیں۔

اب رب ذوالجلال کا جلال منظر پہ چھا جاتا ہے ، اور صور پھونکے جانے اور زمین اور پہاڑوں کے ریزہ ریزہ ہونے اور بھونچال و انتشار کے بعد اس پوری کائنات میں ایک تھماﺅ آجاتا ہے۔ اور رب ذوالجلال اور قہار کی بزرگی اور عظمت چھا جاتی ہے۔